پاکستان انجینئرنگ کو نسل کو حقیقی معنوں میںانجینئرز کا نمائندہ ادارہ بنائیںگے، یونائیٹڈ انجینئرز

منگل مئی 22:33

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان انجنئیرنگ کونسل( پی ای سی ) سے وابستہ توقعات کی تکمیل چاہتے ہیں تو کونسل کے ارکان کو یونائیٹڈ انجینئرز کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انجینئرنگ کو نسل کی چئیرمین شپ کیلئے یونائیٹڈ انجینئرز کے امیدوار سید اشفاق حسین نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینئر انجینئرز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس کی صدرات یو نیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے سابق وائس چانسلر سید امتیاز گیلا نی نے کی جبکہ سرکاری اداروں کے سابق سربراہان سمیت اعلیٰ عہدوں پر تعینات ریٹائرڈو حاضر سروس سینئر انجینئرز اور ینگ انجینئرز بھی اجلاس میں کثیر تعداد میں موجود تھے ۔اجلاس سے امتیاز گیلانی ، انجینئر حبیب علی ،انجینئرنوراز گل،انجینئر صدیق اعوان اور انجینئرمحمد آصف نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

سید اشفاق حسین اور دیگر مقررین نے کہا کہ عرصہ دراز سے پاکستان انجنئیرنگ کونسل کے عہدے ان چند مخصوص افراد کے ہاتھوں میں ہیں جنہوں نے کونسل کے اغراض و مقاصد اور اہداف کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج انجنئیرنگ کونسل سے پاکستانی انجینئرز کی مایوسی کا یہ عالم ہے کہ کونسل کے ایک لاکھ نوے ہزار رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرٖ ف آٹھ سے 12ہزار ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں،مقررین نے کہا کہ اگرچہ یہ خوشی کی بات ہے کہ پی ای سی کو فعال اور متحرک بنانے کی تحریک کا آغاز یو نائیٹڈ انجینئرز کے پلیٹ فارم سے خیبر پختونخوا سے ہو رہا ہے لیکن یونائیٹڈ انجینئرز کسی ایک صوبے تک محدود فورم نہیں، پنجاب ، سندھ،، بلوچستان اورگلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے انجینئرز اس فورم کے قیام پر خوش ہیں اور جیسے جیسے ہمارے رابطوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے ہمیں انجینئر برادری کی جانب سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی مل رہی ہے ۔