ڈی آئی خان،سالی کو قتل کرنیوالاملزم پولیس کو چکمادیکرفرارہوگیا،مقتولہ کے لواحقین کااحتجاج

منگل مئی 22:37

ڈی آئی خان۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) تھانہ یونیورسٹی کی حدود مبین ٹائون میں سالی کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار ملزم محمد عمران ڈسٹرکٹ ہسپتال سے پیشاب کے بہانے پولیس کو چکمہ دے کر فرارہونے میں کامیاب ہوگیا، مقتولہ کے لواحقین مردوخواتین کا ڈی پی او دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ، احتجاج کے دوران مقتولہ کا شوہر شدت غم سے بہوش ہوگیا ،لواحقین کی پولیس اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی ،،قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ ۔

تھانہ یونیورسٹی کی حدود میں مبین ٹائون آڑہ روڈ پر ملزم محمدعمران ولد نزیر سکنہ چاہ فقیر والا نے ساتھ ہمراہ اپنے سسر پہلوان کے گھر میں داخل ہوکر اپنی ناراض بیوی انیتا بی بی اور کمسن بچے کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی اہل خانہ کی مزاحمت پر ملزم عمران نے فائرنگ کردی جس سے اس کی سالی نوشین بی بی زخمی ہوکر جاں بحق ہوگئی ۔

(جاری ہے)

ملزم عمران نے دیوار پھلانگ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی جسے اہل خانہ نے زخمی حالت میں قابو کرلیا ۔

اس دوران ملزم عمران کے ساتھ اس کی بیوی انیتا بی بی کو کار میں اغواء کرکے لے گئے جسے بعدازاں انہوں نے چھوڑ دیا ۔ ملزم عمران کو آلہ قتل سمیت پولیس کے حوالے کردیاگیا ۔ملزم کو زخمی حالت میں علاج کے لئے ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ کے سرجیکل وارڈ منتقل کیاگیا جہاں وہ صبح آٹھ بجے پیشاب کے لئے باتھ روم جانے کے بہانے وہاںسے پولیس کو چکما دیکر باتھ روم کی کھڑکیوں سے کود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ملزم کے فرارہونے پرمقتولہ کے لواحقین انتہائی طیش میں آگئے اور انہوںنے ڈی پی او دفتر ڈیرہ کے باہر پہنچ کر مردوخواتین نے شدید احتجاجی مظاہرہ اور پولیس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف تھانہ یونیورسٹی میں چوری ،،ڈکیتی اور راہزنی کے متعدد مقدمات درج ہیں جس پر اسے گرفتار کیاگیا لیکن وہ دو بار پولیس کی حراست سے فرارہوچکا ہے ۔

انہوںنے یونیورسٹی پولیس کی نا اہلی اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔احتجاجی مظاہرہ کے دوران مقتولہ کا شوہر شدت غم سے نڈھال ہوکر بہوش ہوگیا ۔ واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی لیکن مظاہرین نے اسے ہسپتال منتقل کرنے سے انکار کردیا ۔ بعد ازاں ڈی پی او ڈاکٹر زاہد اللہ ،ڈی ایس پی سٹی سید افتخار شاہ اور ایس ایچ او کینٹ فہیم ممتاز کے اکابرین کے ساتھ کامیاب مزاکرات میں ملزم کی فوری گرفتاری اور ملزم کے فرار میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا ۔۔