حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے ،توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات کئے ہیں،

ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا،بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے،فاٹا کیلئے این ایف سی کے مطابق فنڈز فراہم کئے جائیں ،ایل این جی و دیگر منصوبوں کے بارے دعوے حقائق کے مطابق ہیں تو آج تک پارلیمنٹ کو ایل این جی کے معاہدے سے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا، اراکین سینیٹ کا بجٹ 2018-19ء پر بحث کے دوران اظہار خیال معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کے اچھے کاموں کو سراہا جانا چاہئے، رانا محمد افضل خان

منگل مئی 23:03

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے ،توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات کئے ہیں، بجٹ میں اعلان کردہ اقدامات سے چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی فائدہ ہونا چاہئے ،ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا،،بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے،،فاٹا کیلئے این ایف سی کے مطابق فنڈز فراہم کئے جائیں ،ایل این جی و دیگر منصوبوں کے بارے دعوے حقائق کے مطابق ہیں تو آج تک پارلیمنٹ کو ایل این جی کے معاہدے سے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا۔

منگل کو سینیٹ اجلاس میں بجٹ 2018-19ء پر بحث کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی افسوسناک ہے۔

(جاری ہے)

بجٹ خسارہ 5 فیصد ہے جس کی وجہ سے حکومت کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مزید قرضے لینے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکس بڑھنے کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے بالواسطہ ٹیکس ختم کر کے بلاواسطہ ٹیکس کا نظام رائج کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں لیکن ان کے ثمرات چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں میں محسوس نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوامی خواہشات کے مطابق پیش کیا جانا چاہئے تھا۔ این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ کا اعلان افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر کام کریں تو اس سے ملک میں جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور عوام کے حقوق کا بھی بہتر انداز میں تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں معیشت اور توانائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 12 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے۔ صنعتی، زرعی اور دیگر شعبوں میں ہم ترقی دیکھ رہے ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترقیاتی بجٹ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح کرنی چاہئے۔ سینیٹر مہرتاج روغانی نے کہا کہ فنانس کمیٹی کو ملک میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے زیادہ رقوم خرچ کرنے کے حوالے سے اپنی سفارشات دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔

غربت کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ نوجوانوں کی آبادی میں تعداد بہت زیادہ ہے، انہیں بہتر تعلیم،، روزگار اور دیگر سہولیات دے کر ہم ملک میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں اور معاشی ترقی کی بنیاد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ فاٹا میں آج بھی لوگ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علاقے پسماندہ اور ترقی سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا کے لئے این ایف سی کے مطابق فنڈز فراہم کئے جائیں اور ان فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں بہت سے بہتر کام بھی شامل ہیں اس لئے بہتر کاموں کی تعریف کی جانی چاہئے۔ سینیٹر محمد اکرم نے کہا کہ آنے والی حکومت اس بجٹ میں ردوبدل کر سکتی ہے۔ بجٹ جب بھی تیار ہوتا ہے اس میں آمدن و اخراجات کا تخمینہ اور درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔

وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو جو حصہ ملنا چاہئے تھا اس سے بہت کم دیا گیا ہے۔ بلوچستان کا شمار اب بھی پسماندہ صوبوں میں ہوتا ہے۔ اس کے احساس محرومی کو ختم کرنا چاہئے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پانچ سال کی مدت پوری کر رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے مورال کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن الحمد الله حکومت نے تمام رکاوٹوں کے باوجود پانچ سالوں میں گورننس اور جمہوریت کو فروغ دیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھائے۔

بجٹ میں مسلم لیگ (ن) نے عوام کی بہتری کیلئے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جس پر مفتاح اسماعیل اور رانا افضل مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمن نے بجٹ پر بحث کے دوران کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منصوبوں کو موجودہ حکومت اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہے، لواری ٹنل، انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور سی پیک کے منصوبے ہمارے دور میں شروع ہوئے۔

اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 8 ہزار میگا واٹ بجلی کی قلت ہے۔ پاکستان کو کرایہ کے بجلی گھروں کے معاملہ پر 800 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتی کارکردگی کے بارے میں سینیٹر سعدیہ عباسی کی بجٹ تقریر کا جواب دیتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ اگر ایل این جی اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے ان کے دعوے حقائق کے مطابق ہیں تو آج تک پارلیمنٹ کو ایل این جی کے معاہدے سے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا۔

اب بھی ویب سائیٹ پر معاہدے کی جگہ کالی سیاہی پھیر دی گئی ہے۔ قوم سے کیوں چھپایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ہم نے شروع کیا، خاتون سینیٹر یہ بھی غلط کہہ رہی ہیں کہ لواری ٹنل انہوں نے شروع کیا۔ اس منصوبے کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ آج پاکستان معاشی بدحالی کا شکار ہے، ایسی صورتحال ملک میں ملک کس طرح ترقی کرے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ گوادر پورٹ سے تجارت میں اضافہ ہوگا لیکن یہ سب امن و استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چین نے چیئرمین مائو کے انتقال کے بعد بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں، تنگ نظریاتی دائرے سے نکل گئے۔ ہمیں بھی چین کی تقلید کرنی چاہئے۔ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعات کے باوجود تجارت ایک بلین ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔ ہم کب تک ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے۔

ایک وقت تھا جب افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت تین ارب ڈالر تھی جو اب کم ہو کر ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ تجارت اور سی پیک کے ثمرات سے ہم اسی صورت مستفید ہو سکتے ہیں جب ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکیں گے۔ اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف شیری رحمن نے کہا کہ کابینہ پر بے تحاشا اخراجات ہو رہے ہیں اور ایک بہت بڑی کابینہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں وزراء کے بعد مشیروں، وزرائے مملکت کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ کابینہ کے ارکان کی تعداد کو قوم سے کیوں چھپایا جا رہا ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کتنے وزراء مملکت، کتنے مشیر اور کتنے معاونین خصوصی ہیں۔ سینیٹ کو حق حاصل ہے کہ اسے کابینہ سے آگاہی ہوجس پر چیئرمین سینیٹ نے وزیر پارلیمانی امور کو کابینہ کے ارکان کی تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے مختلف ارکان کے نکتہ ء اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایوان میں حکومتی ارکان حکومت کی طرف سے معیشت کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی بات کرتے ہیں تو ایسے اقدامات کو سراہا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے فنڈز کے حوالے سے بات کی گئی ہے، وہاں کے حقائق بہت تلخ ہیں، اگر کمیٹیوں میں برادرانہ ماحول ہوگا تو باہمی مشاورت سے فیصلے کر کے ہم بہتر نتائج سامنے لا سکتے ہیں۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس (آج) بدھ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔