ْہزارہ یونیورسٹی اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے باہمی تعاون سے فلاحی نمائش کا اہتمام

زلزلہ 2005ء کے بعد دوبارہ یہاں آنے پر خوشی ہو رہی ہے کہ قومی ادارہ نے شاندار ترقی کی ۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد حامد خان طلباء کی فلاحی سرگرمیوں میں شمولیت ملک و قوم اور معاشرے میں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ وائس چانسلر

منگل مئی 23:18

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی خیبر پختونخوا برانچ کے باہمی تعاون سے یونیورسٹی کے ملٹی پرپس ہال میں ’’ویلفیئر ایگزیبیشن‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ نمائش کا مقصد نوجوان طلباء و طالبات اور سکالرز میں قدرتی آفات کے دوران فلاحی کاموں میں معاونت کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی خیبر پختونخوا برانچ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد حامد خان نے کہا کہ آج کا دن پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی فلاحی سرگرمیوں کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا، ہزارہ یونیورسٹی کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی فنی و تکنیکی تعاون کی بدولت ہم ایک ایسا سنٹر قائم کیا جائے گا جہاں نوجوان طلباء کو رضاکارانہ سرگرمیوں میں ابتدائی طبی امداد کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ قدرتی آفات کے دوران لوگوں کی مدد اور دیگر فلاحی امور سر انجام دے سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے میں معاونت پر وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی کے ساتھ باہمی سمجھوتہ کے تحت یونیورسٹی طلباء کو جہاں ریڈ کریسنٹ کی ہنگامی و فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم ہوں گی وہاں یہ نوجوان تربیت مکمل کر کے اپنے اپنے اضلاع میں قدرتی آفات، ناگہانی صورتحال اور ہنگامی صوتحال میں انسانیت کی خدمت کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زلزلہ کے بعد ہزارہ یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا اور آج دوبارہ یہاں آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس قومی ادارہ نے ہر شعبہ میں مثالی اور شاندار ترقی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے گریجویٹس نہ صرف اس ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس نے اس موقع پر کہا کہ طلباء کی فلاحی سرگرمیوں میں شمولیت ملک و قوم اور معاشرے میں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور نوجوانوں میں ہنگامی حالات کے موقع پر مثبت رد عمل اور قدرتی آفات کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلئے فلاحی کاموں میں شرکت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ کی فلاحی سرگرمیاں اور عوام الناس کیلئے خدمات مثالی ہیں اور اس کے کارکنان کی قدرتی آفات کے موقع پر لوگوں کی مدد کے جذبہ کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے باہمی تعاون سے قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیقی سرگرمیوں کے آغاز کیلئے ’’ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ کلائیمٹ چینج سنٹر‘‘ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم میسر آ جائے گا جو نہ صرف موجودہ موسمی حالات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے بھی لوگوں کو معلومات فراہم کرے گا۔

وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں اور تعمیراتی منصوبوں کے متعلق بھی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی نے اب تک جو تعلیم و تحقیق کے حوالہ سے ترقی کا سفر طے کیا ہے وہ نہایت حوصلہ افزاء اور قابل تقلید ہے، تعلیم و تحقیق کے میدان میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور سکالرز نے شاندار انداز میں خدمات سر انجام دی ہیں اور ہزارہ یونیورسٹی صوبہ بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک اہم پہچان حاصل کر چکی ہے۔

گذشتہ سال تحقیق و تخلیق کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 80 سے زائد پی ایچ ڈی سکالرز کو ڈگریاں عطا کی گئیں جبکہ 3000 سے زائد سکالرز نے ایم فل کی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی ڈگریاں مکمل کیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ایچ ای سی کی سرپرستی کی بدولت یونیورسٹی کے 8 اکیڈیمک بلاکس کی تعمیر جون تک مکمل ہو جائے گی جس کی بدولت یونیورسٹی میں100 سے زائد کلاس رومز، لیبارٹریوں اور آفسز کی گنجائش پیدا ہوگی جبکہ مزید 5000 سے زائد طلباء و تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں فراہم کی جا سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نہ صرف تعلیم و تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی یہ ادارہ اہم پہچان حاصل کر چکا ہے، یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے اس ادارہ کے سفیر کے طور پر ہر شعبہ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جنرل (ر) حامد خان نے ایگزیبیشن کا معائنہ کیا جبکہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے احاطہ میں قائم فیزنٹری کا بھی دورہ کیا۔

مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ہزارہ یونیورسٹی کا دورہ کر کے نہایت طمانیت محسوس ہو رہی ہے کیونکہ یہ ادارہ اعلیٰ تعلیم کے حوالہ سے قوم کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ اس موقع پر مختلف حکومتی و نجی اداروں کے نمائندے، یونیورسٹی کے پروفیسرز و افسران اور طلباء و طالبات اور سکالرز بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔