سانگھڑ،ٹھیکیدار50سالہ قدیم پارک گلستان لطیف کی بحالی کا کام ادھور چھوڑکر غائب

پارک کی بحالی کا کام تین سال قبل ایک کروڑ 20لاکھ روپے کی خطیر رقم سے شروع ہوا تھا

منگل مئی 23:18

سانگھڑ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) 50سالہ قدیم پارک گلستان لطیف کی بحالی کا کام تین سال قبل ایک کروڑ 20لاکھ روپے کی خطیر رقم سے شروع ہوا تھا ٹھیکیدار نے گلستان پارک کی بحالی کا کام ایک سال میں مکمل کرکے بلدیہ سانگھڑ کے حوالے کرنا تھا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود سرکاری خزانے سے گلستان لطیف پارک کے ترقیاتی کام کی مد میں 71لاکھ روپے کا فنڈز جاری ہونے کے باوجود گزشتہ دو سال سے پارک کا کام ادھورا ہے اور ٹھیکیدار غائب ہیں تفصیلات کے مطابق سانگھڑ ضلعی ہیڈ کوارٹر میں عوام الناس کو تفریح کی سہولیات فراہم کرنے والا گلستان لطیف پارک ضلع انتظامیہ سانگھڑ کی ناقص پالیسی کی وجہ سے پارک کا کام مکمل نہ ہوسکا اور گزشتہ تین سال سے سانگھڑ کی عوام تفریح کی سہولت سے محروم ہے عوام کا کہنا ہے کہ گلستان لطیف پارک کی ترقی کے لئے آنے والا فنڈز افسر شاہی کی کمیشن کی نظر ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے گزشتہ تین سال سے پارک کی بحالی کا کام نہ مکمل ہے لیکن آج تک ضلعی انتظامیہ کے کسی بھی افسر نے گلستان لطیف پارک کی بحالی کے کام کا جائزہ نہیں لیا کیونکہ گلستان لطیف پارک کی بحالی کا ٹھیکہ سیاسی بنیادوں پر ضلع سکھر کی تحصیل پنوں عاقل کے ابوبکر بلو نام کے ٹھیکہ دار کو دیا گیا جبکہ اس ٹھیکیدار کو ترقیاتی کام کرنے کا کوئی بھی تجربہ نہیں تھا اور اس نے غیر قانونی فرضی نام سے الخیر کنسٹرکشن کمپنی کو بااثر سیاسی شخصیت کے کہنے پر گلستان لطیف پارک کے ترقیاتی کاموں کا ٹھیکہ دیا گیا لیکن آج تین سال گزرنے کو ہیں لیکن گلستان لطیف پارک زبوں حالی کا شکار ہے اور ضلعی انتظامیہ بھی اس پارک کی بحالی میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ جس ٹھیکیدار کو پارک کی بحالی کا ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ ڈپٹی کمشنر سانگھڑ سے زیادہ پاور فل شخصیت کا مالک ہے گلستان لطیف پارک جو کہ نو ایکٹر سے زائد رقبے پر مشتمل ہے اور اس وقت اس کی زمین اربوں روپے مالیت کی ہے زرایعے کا کا کہنا ہے کہ چند سیاست دان اجڑے ہوئے گلستان لطیف پارک کی زمین پر میلی آنکھ رکھ کر بیٹھے ہیں کہ جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان صوبہ سندھ میں سرکاری زمینوں کی رلیز اور الاٹمنٹ پر سے پابندی اٹھائے تو ضلع سانگھڑ کے کرپٹ سیاست دان اس پارک کی زمین کو اونے پونے داموں الاٹ کرواکر ہڑپ کرنے کی ضلعی انتظامیہ سے ملکر سازش میں مصروف عمل ہیں جبکہ گلستان لطیف پارک سے متصل کروڑوں روپے کی سرکاری بلڈنگ ٹاون حال اور اس میں موجود کروڑوں روپے کا سرکاری سامان ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نے اپنی کرپشن کو تحفظ دینے کے لئے ایک نام نہاد سرکاری ملازمین کے پریس کلب کو گفٹ کیا ہے سانگھڑ کی عوام کا چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان چیئرمین نیب اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا سانگھڑ کے قدیم گلستان لطیف پارک کو قبضہ ہونے سے بچایا جائے اور اسے اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے تاکہ سانگھڑ کی 25لاکھ آبادی کی سیرو تفریخ کی واحد پارک کو بچایا جائے