سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کی سگریٹ پر ٹیکس ڈیوٹی بڑھانے کی سفارش،سگریٹ پر ٹا ئر تھری بر قرار رہے گا

انکم ٹیکس چھوٹ12لاکھ کرنے کی بھی تجویز منظور 12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ کمانے والے افراد پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہو گا قائمہ کمیٹی نے یارن کی درآمداد پر 10 فیصد ٹیکس ایگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی سفارش بھی منظور کرلی

منگل مئی 23:23

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سگریٹ پر ٹیکس ڈیوٹی بڑھانے کی سفارش کر دی ہے جبکہ سگریٹ پر ٹا ئر تھری بر قرار رہے گا، کمیٹی نے انکم ٹیکس چھوٹ 12لاکھ روپے کرنے کی بھی تجویز منظور کر لی،12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے کمانے والے افراد پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ کمیٹی نے یارن کی درآمداد پر 10 فیصد ٹیکس ایگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی سفارش کی منظور کر لیا کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئر مین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوی ایشن نے خام مال پر ریگورلیٹری ڈیوٹی لگانے کی سفارش کی اپٹما حکام نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ یارن پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جبکہ پولیسٹر پر 11 فیصد ڈیوٹی عائد ہے یارن 5 فیصد ڈیوٹی پر برآمداد ہو رہا ہے جبکہ ٹیکسائل کی تیار شدہ منصوعات پر 5 فیصد ڈیوٹی ہے جس کی وجہ سے 25 ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں جس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ خام مال پرٹیکس کی شرح زائد جبکہ تیار مل پر ٹیکس کی شرح کم ہے جس پر کمیٹی نے پارن پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی سفارش کر دی ایف پی سی سی آئی حکام نے کمیٹی سے سفارش کی ہے کہ صنعتوں پر جی آئی ڈی سی کے واجبات ختم کئے جائیں کمرشل امپورٹرز پر6 فیصد کم از کم ٹیکس کی شرح کو ختم کیا جائے جس پر چیئر مین ایف بی آر نے کہا ہے کہ کمرشل امپورٹرز نے کم از کم ٹیکس کا غلط استعمال کیا کمرشل امپورٹرز اپنی سہولت کو منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا اور بیرون ملک اثاثے بنائے جس پر سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی نے کم از کم ٹیکس کی شرح کو ختم کرنے کی سفارش کی اگر ڈیوٹیاں ختم کر دی جائیں تو پھر ریونیو کہاں سے آ ئے گا اور ملک کہاں سے چلے گا۔

(جاری ہے)

وزارت صحت اور پاکستان نیشنل ہار ٹ ایسوی ایشن نے ملک میں سگریٹ کی کھپت کو کم کرنے کے لئے سگریٹ مہنگے کرنے کی سفارش کر دی انہوں نے کہا ہے کہ تمبا کو نوشی کی وجہ سے ہونیوالی اموات کو روکنے کے لئے سگریٹ مہنگے کئے جائیں سگریٹ سے 100 ارب روپے ریونیو حاصل ہونا ہے لیکن اس کے استعمال کی وجہ سے سگریٹ نوشی کے متاثرین پر صحت کے شعبہ میں 140 بلین (ارب) روپے خر چ ہوتے ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی پر ٹیکسوں کی شرح 73 فیصد ہونی چاہئے لیکن پاکستان پر سگریٹ پر ٹیکسوں کی شرح 45 فیصد ہے حکام نے سفارش کی سگریٹ پر تھرڈ ٹائر کو ختم کیا جائے او سگریٹ مہنگے کئے جائیں پالیسی اور انفور سمنٹکو اکٹھا نہ کیا جائے جس پر چیئر مین ایف بی آر نے کہا ہے کہ وزارت صحت کو ایف بی آ رکے پاس آنا چاہئے تھا اداروں کا پارلیمنٹ پر اعتماد بڑھ رہا ہے اگر 2016 کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ملک میں سگریٹ کی پیداوار 55 ملین سگریٹ تھی انہوں نے کہا ہے کہ وزارت صحت حکام کی بات غلط ہے کہ ملک میں 77 فیصد سگریٹ کی کھپت میں اضافے ہو اہے کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش سگریٹ پر 73 فیصد ٹیکس وصول کرنا ہے۔

ترکی 85 فیصد اور ایران 70 فیصد ٹیکس وصول کرتا ہے لیکن پاکستان میں سگریٹ پر مسلسل ٹیکس میں کمی لائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے سگریٹ کی کھپت میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ سگریٹ پاکستان میں ہی استعمال ہوتے ہیں کمیٹی نے انفرادی ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے 12 لاکھ روپے انکم کو ٹیکس فری کرنے جبکہ 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے آمدن پر 10 فیصد ٹیکس اور 24 سے 40 لاکھ روپے آمدن پر 15 فیصد ٹیکس کی سفارش کو منظور کر لیا ڈی اے پی بنانے والے حکام نے کمیٹی سے سفارش کی کہ فاسفورک ایسڈپر ڈیوٹی 5 فیصد ہے جس کو کم کیا جائے کیونکہ خسارے میںجا رہا ہے جس پر چیئر مین ایف بی آر نے کہا ہے کہ فرٹیلائزرز سے ملاقات کی ہے اور اس پرورکنگ جا ری ہے پہلے بھی بہت زیادہ چھوٹ دے گئی ہے مزید بھی کام کر رہے ہیں کمیٹی نے معاملے کو ایف بی آر کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔