قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاسخ پرائیو ٹ سیکٹرز کی بھی بجٹ کے حوالے سے تجاویز اور ان کو کسٹم ڈیوٹی ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ، انکم ٹیکس ، لیویز و دیگر نافذ ہونے والی ڈیوٹیز کی وجہ سے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

منگل مئی 23:26

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں اراکین سینیٹ کی طرف سے پیش کردہ تجاویز اور فنانس بل 2018 میں ایف بی آر کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں پرائیو ٹ سیکٹرز کی بھی بجٹ کے حوالے سے تجاویز اور ان کو کسٹم ڈیوٹی ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ، انکم ٹیکس ، لیویز و دیگر نافذ ہونے والی ڈیوٹیز کی وجہ سے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پرائیو ٹ سیکٹرز ایف پی سی سی آئی ،رائل گروپ،مائیکرو فیڈرز ،آڈٹ اوور سائٹ بورڈ ،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز ،فوجی فرٹیلائیزز ، میچ مینوفیکچرز ، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اوراپٹما کے نمائندگان نے نئے بجٹ میں شامل کی گئی تجاویز کے حوالے سے انڈسٹری پر ہونے والے اثرات اور درپیش مسائل کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا ۔

(جاری ہے)

قائمہ کمیٹی نے ان کی تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے سفارشات مرتب کر لیں ۔ میچ مینو فیکچرز کے حکام نے کہا کہ ہمارا مقابلہ مارکیٹ میںغیر رجسٹرڈ صنعت والوں سے ہوتا ہے وہ ٹیکس بھی ادا نہیںکرتے کئی رجسٹرڈ صنعتیں بند ہو چکی ہیں آئوٹ پٹ پر سیلز ٹیکس کو ختم کر کے پوٹاشیم ، کلورائیڈ کی ایمپورٹ پر لگایا جائے جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔

فوجی فرٹیلائزرز کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا مقابلہ ایمپورٹر سے ہے وہ 2 فیصد ٹیکس دیتے ہیں ہم 5 فیصد ڈیوٹی ادا کرتے ہیں قائمہ کمیٹی نے معاملہ ایف بی آر کو ریفر کر دیا ۔ آڈٹ اوور سائیڈ بورڈ کے حکام نے درخواست کی کہ آمدن پرٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے جس پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ معاملے کا جائزہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لیا جائیگا۔

اشتہارات ایجنسیوں کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری اشتہارات پر15 فیصد کمیشن ملتا ہے ،،کراچی اور لاہور میں پرائیوٹ کام زیادہ ہے ۔حکومتی اشتہار ات کا کمیشن پورا ملتا ہے پرائیوٹ سے مسئلہ ہوتا ہے قائمہ کمیٹی نے معاملہ ایف بی آر کو ریفر کر دیا ۔قائمہ کمیٹی نے سینیٹر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی بجٹ تجاویز کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا ۔

ان کی تجویز بارے ملکی ایئر لائنز کے ٹکٹ پر 50 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی سفارش کو منظور کر لیا ۔ ہائیبریڈاور بجلی کی کاروں پر ایک جیسی ڈیوٹی لگانے کی تجویز کو بھی قائمہ کمیٹی نے منظور کر لیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کی طرف سے جو تجاویز پیش کی گئیں ہیں ان کو ملکی مفاد و خوشحالی اور ملک میں سرمایہ کاری و صنعت کے فروغ کیلئے زیادہ سے زیادہ موثر بنا کرسفارشات تیار کر لیں گئیں ہیںجو ایوان میں منظوری کیلئے پیش کر دی جائیں گی ۔

قائمہ کمیٹی نے تمام سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دے دی جسے ایوان بالاء کے اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں سینیٹرز دلاور خان ، محسن عزیز ، میاں محمد عتیق شیخ ، اورنگزیب خان، مرزا محمد آفریدی ،محمد اکرم ، خانزادہ خان کے علاو ہ وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل ، چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا، سپیشل سیکرٹری خزانہ ، ممبر پالیسی ایف بی آر،جوائنٹ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف ، پرائیو ٹ انٹر پینئرز کے حکام نے شرکت کی ۔