سپریم کورٹ میں پی آئی اے نجکاری کے حوالے سے کیس کی سماعت ،سابق مشیرہوابازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم

منگل مئی 23:37

سپریم کورٹ میں پی آئی اے نجکاری کے حوالے سے کیس کی سماعت ،سابق مشیرہوابازی ..
لله(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) اے پی پی) سپریم کورٹ نے پی آئی اے نجکاری کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئی سابق مشیرہوابازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم جاری کردیا ہے ، منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا پی آئی اے کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز تشریف لائے ہیں، عدالت نے صرف دو سابق سربراہان کو باہر جانے کی اجازت دی ہے ہمیں فرانزک آڈٹ کی رپورٹ بھی مل چکی ہے۔

اس موقع پر سابق مشیر ہوائی بازی شجاعت عظیم اور وزیراعظم کے مشیر مہتاب عباسی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے مہتاب عباسی سے کہا کہ پی آئی اے میں ہونے والی بدعنوانی یا پہنچنے والا نقصان آپ کے دور میں نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

آپ عدالت میں بیٹھ کر دیکھیں کہ پی آئی اے میں کیا ہوتارہا ہے۔۔چیف جسٹس کی ہدایت پر عدالت کی معاونت کرنے والے معروف اکانومسٹ فرخ سلیم نے عدالت کو 2008ء تا2017 ء کے دوران پی آئی اے کی مالی حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو2008 ء میں 36 ارب کا نقصان ہوا ہے،20011 میں 28 ارب 016 2ء میں 45 ارب اور 2017 میں 44 ارب کا نقصان ہوا۔

جس کی بڑی وجہ آمدن سے زیادہ اخراجات ہیں، ان کاکہناتھا کہ مجموعی طور پر2008 ء سے آج تک 360 ارب کا نقصان ہوا ہے ،2008 تک خسارہ 73ارب روپے تھا۔ جوبعدازاں بڑھتے بڑھتے 360 ارب ہو گیا ہے اوریہ خسارہ آخری دور حکومت میں ہو ا ہے، 88فیصد خسارہ گزشتہ دس سال کا ہے۔ فرخ سلیم کامزید کہناتھا کہ 2013 ء میں ہوا بازی کا نیا ادارہ بنایا کرشجاعت عظیم کو ہوا بازی کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔

سماعت کے دورا ن جسٹس اعجازالحسن نے استفسارکیا کہ پی آئی اے کے لئے پیسہ کہاں سے آتا ہے ، پی آئی اے کو ٹیکس کا پیسہ جاتا ہے،ادارے کے لوگ ٹیکس کے پیسے کھاتے جا رہے ہیں۔ عدالتی معاون فرخ سلیم نے مزید کہا کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچنے کی وجہ سیاسی اثر ورسوخ۔پیکج اور ایسوسی ایشن کی پالیسی ہے جبکہ گزشتہ 10 سال میں پی آئی اے میں تمام تقرریاں سیاسی بنیادون پر ہوئی ہیں، اس وقت پی آئی اے میں 7 یونین بنی ہوئی ہیں۔

جومختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ 2013 ء سے 2016 ء تک جہاز لیز پر لیے گئے۔ ان اوقات میں ایم ڈی کون تھے، فرخ سلیم نے کہاکہ 2016 ء میں لیز پر لئے گئے جہازوں کے لئے 9 ارب روپے ادا کئے گٰئے ہیں مجموعی طورپر2008 ء سے 2017 تک 45 جہازوں کو لیز پر لیا گیا، بعد میں لیز پرلئے گئے جہازوں کے لئے سپئیر پارٹس کی خریداری پرپیسہ خرچ کیا گیا ، حالانکہ 1990 ء سے پی آئی اے کے پاس سپئر پارٹس پڑے ہیں۔

جن کوآج تک استعمال نہیں کیا گیا ، جب لیز کے جہاز گراونڈ ہوئے تواس سے 6.67 ارب روپے نقصان ہوا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توصاف ظاہر ہے کہ جب جہازچلے گا تو نفع آئے گا لیکن یہاں حال یہ ہے کہ لیز پر جہاز لیکر گراونڈ کر دئے گئے۔جسٹس اعجاز الاحسن کاکہناتھا کہ جہاز کو گراونڈ کرنے سے 36 ارب کا نقصان ہوا ، عدا لتی معاون نے کہاکہ 013 2ء میں پی آئی اے کے دو لاکھ ستاسی ہزار ٹکٹ مفت بانٹے گئے، جس سے پانچ ارب کا نقصان ہوا ، چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ پی آئی اے کے ٹکٹس کن لوگوں کو مفت دئے گئے، ہم اس معاملہ کوبعد میں دیکھیں گے ، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا نیب حکام یہاں موجود ہیں۔

عدالت میں موجود راسیکوٹر نیب بھی اس معاملے کودیکھیں۔ عدالتی معاون فرخ سلیم نے مزید کہاکہ پی آئی اے کے کارگو کو جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔2016 ء میں پی آئی اے نے میڈیکل اخراجات کی مد میں 3 ارب روپے خرچ کیا، جبکہ ملازمین کی انشورنس کروانے سے ایک ارب کے اخراجات ہوئے۔2000 ء میں پی آئی اے شیئرز کاریٹ 53 فیصد تھا۔ 2017ء میں شیئرز کی ویلیو 22 فیصد ہوگئی،،چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ ادارے کے شیئرز کی قیمت کس طرح کم ہوئی،کیا ہمارے پاس جہاز کم تھے یا روٹ فروخت کئے گئے۔

فرخ سلیم نے بتایا کہ مشرق وسطی کی پروازیں ہفتے میں 546 ھو گئیں، چیف جسٹس نے کہاکہ سابق ایم ڈیز ان سوالات کا جواب مجموعی طور پر دینگے یا الگ الگ ،کیا یہ معاملہ نیب کو بھجوا د یا جائے ، سماعت کے دورا ن چیف جسٹس نے عدالت میں موجود شجاعت عظیم کی سززنش کرتے ہوئے ان سے کہاکہ شجاعت عظیم آپ عدالت میں جیب سے ھاتھ نکال کر کھڑے ہوں۔پی آئی اے کوجو نقصان ہوا ہے یہ سب نقصان آپ کے دور میں ہوا ہے ، آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے ، سابق مشیر نے کہاکہ میں صرف دو سال مشیر ہوا بازی رہا۔

میرا تعلق پی آئی سے نہیں تھا بلکہ ہوا بازی سے تھا۔میں نے اپنے دور میں ایوی ایشن پالیسی بنائی، جب میں آیا تو پی آئی اے کے پاس اٹھارہ جہاز تھے، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ کس بنیاد پر آپکی تقرری ہوئی،کیا آپکی تقرری سیاسی بنیاد یا پھر اقرباء پروری پر نہیں ہوئی ہے، آپ کا ہوا بازی کا کتنا تجربہ ہے ، شجاعت عظیم نے کہا کہ میں کینیڈا میں کنسلٹنٹ رہا ہوں۔

چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ہم آپ کا نام ای سی ایل میں ڈال رہے ہیں۔اس معاملہ کی تحقیقات ہونی ہے۔۔عدالت دیکھے گی کہ اتنے بڑے خسارے کا ذمہ دار کون ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے وزیراعظم کے مشیرہوا بازی سردار مہتاب کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ایماندار آدمی ہیں، آپ کے دور میں ایک پیسہ بھی ادھر ادھر نہیں ہوا، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کیٹرنگ کے ٹھیکے کس کو دئے گئے ہیں،کس نے ہائوسنگ سوسائٹی بنائی ،آج چندہ اکٹھا کیا جائے تو خسارے کے پیسے یہی قوم دے دے گی، ہماری قوم اپنے نیشنل کیئر ئیر اوراپنے پرچم کو نیچے نہیں ہونے دے گی ، چیف جسٹس نے وزیراعظم کے مشیر سے کہاکہ عباسی صاحب آپ کو اس معاملے کی تحقیقات کروانا چاہیے تھی،حکومت نے پی آئی اے کو 20 ارب روپ دینے کی بات کی تھی ،دیکھیں کہ کوئی ہمارا جہاز لیکر جرمنی چلا گیا، عدالت تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گی، چیف جسٹس نے کہاکہ پی آئی اے جیسے کامیاب ادارے کو برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے لیکن ہرکوئی کہتاہے کہ اس نے ملک کانقصان نہیں کیا ہے ،توکیا آسمان سے فرشتے آکر اربوں روپے کھا گئے، ہم اس ملک کا ایک پیسہ جانے نہیں دیں گے،اب مٹی پاؤ والی پالیسی نہیں چلے گی،بریفنگ سب متعلقہ لوگوں نے دیکھ لی ہے جس کی روشنی میں سب لوگ 15 روز میں اپنے اپنے جوابات دے دیں، عدالت نے پی آئی اے میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کابھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افراد سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کردیا اورمزید سماعت ملتوی کردی