لیسکو میں 6.6 ،میپکو میں 3.03 ، فیسکو میں 1.5 ، گیپکو میں 1.002 ایسکو میں 22 کروڑ روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے،

خیبر پختونخوا کے پیسکو میں 23.48 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے،سندھ کے حیسکو میں 6.78 ارب اور سیپکو میں 9.721 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے، بلوچستان کے کیسکو میں 6.75 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کی چاروں وزرائے اعلیٰ سے بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کیلئے تعاون کی درخواست، خط ارسال

منگل مئی 23:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے چاروں وزرائے اعلی سے بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کیلئے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے لیسکو میں 6.6 بلین, میپکو میں 3.03 بلین، فیسکو میں 1.5 بلین، گیپکو میں 1.002 بلین اور ایسکو میں 22 کروڑ روپے کی چوری ہو رہی ہے، خیبر پختونخوا کے پیسکو میں 23.48 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے،،سندھ کے حیسکو میں 6.78 ارب اور سیپکو میں 9.721 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے، بلوچستان کے کیسکو میں 6.75 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے ۔

منگل کو وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے چاروں وزرائے اعلی کو خطوط لکھ کر بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کیلئے تعاون کی درخواست کی ہے ۔

(جاری ہے)

خطوط میں صوبوں کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر کے فوری اندراج میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے ۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ تمام وزرائے اعلی سے ملنے کی درخواست پر ابھی تک عمل نہ ہوسکا اسلئے چاروں وزرائے اعلی کے صوبوں میں ہونے والی بجلی چوری اور اس کی روک تھام کیلئے درکار وسائل بمعہ خط ارسال کیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سے انکی ذاتی مداخلت کی درخواست کی ہے ۔

صوبہ پنجاب کے لیسکو میں 6.6 بلین روپے کی چوری, میپکو میں 3.03 بلین روپے کی چوری، فیسکو میں 1.5 بلین روپے کی چوری، گیپکو میں 1.002 بلین روپے کی چوری اور ایسکو میں 22 کروڑ روپے کی چوری ہو رہی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے پیسکو میں 23.48 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے ۔صوبہ سندھ کے حیسکو میں 6.78 ارب روپے کی چوری جبکہ سیپکو میں 9.721 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔

صوبہ بلوچستان کے کیسکو میں 6.75 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔خط میں صوبوں سے درکار وسائل کا بھی تخمینہ بھیجا گیا ہے۔صوبہ پنجاب میں لیسکو میں 191 سب ڈویژن کیلیے 32 گاڑیاں اور 378 اہلکار, میپکو کے 98 سب ڈویژن کیلئے 20 گاڑیاں اور 120 اہلکار, فیسکو میں 138 سب ڈویژن کیلئے 25 گاڑیاں اور 100 اہلکار، گیپکو میں 118 سب ڈویژن کیلئے 1 گاڑی اور 6 اہلکار جبکہ ایسکو کے 9 سب ڈویژن کیلئے 2 گاڑیاں اور 12 اہلکار وں کی ضرورت ہے صوبہ خیبر پختونخوا میں پیسکو کے 53 سب ڈویژن کیلئے 53 گاڑیاں اور 212 اہلکار مہیا کیے جائیں خط کا متن صوبہ سندھ میں حیسکو کے 68 سب ڈویژن کیلئے 16 گاڑیاں اور 96 اہلکار جبکہ سیپکو کے 62 سب ڈویژن کیلیے 16 گاڑیاں اور 96 اہلکار مہیا کیے جائیں ،صوبہ بلوچستان میں کیسکو کے 55 سب ڈویژن کیلئے 14 گاڑیاں اور 66 اہلکار مہیا کیے جائیں ۔