سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل منظور ہونے کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مخنث افراد کے حقوق کیلئے باقاعدہ قانون بن جائے گا، جمعیت علماء اسلام (ف)اور جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت مخنث افرادقومی شناختی کارڈ،ڈرایوئنگ لائسنس،پاسپورٹ اور چالڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے،خواجہ سرائوں کواپنی جنس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا،جو شخص مخنث افراد کو زبردستی گداگری کیلئے ملازمت پر رکھے گا اسے 6ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی،مخنث افرادکو وراستی جائیداد میں اپنی جنس کے مطابق حصہ ملے گا، حکومت سرکاری اداروں بالخصوص اسپتالوں اور جیلوں میں مخنث افراد کیلئے خصوصی اقدامات کریگی،خواجہ سرائوں کو ووٹ دینے اور عوامی عہد ے کا بھی حق حاصل ہوگا،قانون پورے ملک میں وسعت پذیر ہو گا،بل کا متن

منگل مئی 23:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ اور انکی فلاح و بہبود کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔بل کی جمعیت علماء اسلام (ف)اور جماعت اسلامی نے مخالفت کی۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل منظور ہونے کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مخنث افراد کے حقوق کیلئے باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

بل کے تحت مخنث افرادقومی شناختی کارڈ،ڈرایوئنگ لائسنس،پاسپورٹ اور چالڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے،خواجہ سرائوں کواپنی جنس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا،جو شخص مخنث افراد کو زبردستی گداگری کیلئے ملازمت پر رکھے گا اسے 6ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی،مخنث افرادکو وراستی جائیداد میں اپنی جنس کے مطابق حصہ ملے گا، حکومت سرکاری اداروں بالخصوص اسپتالوں اور جیلوں میں مخنث افراد کیلئے خصوصی اقدامات کریگی،خواجہ سرائوں کو ووٹ دینے اور عوامی عہد ے کا بھی حق حاصل ہوگا،قانون پورے ملک میں وسعت پذیر ہو گا۔

(جاری ہے)

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میںپیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے سینیٹ سے منظور کردہ مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ،امداد اور بحالی اور انکی فلاح و بہبود اور ان سے منسلک ، اور ان کے ضمنی امور کیلئے احکام وضع کرنے کا بل ’’مخنث افراد (حقوق کا تحفظ) بل2018 پیش کرنے کی تحریک پیش کی،اس موقع پر جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے بل کا جائزہ لینے کیلئے اسے اسلامی نظریاتی کونسل اور قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا مطالبہکیا جس پر سیدنوید قمر نے کہا کہ یہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور سینیٹ سے منظور ہو کر قومی اسمبلی میں آیا ہے ، اگر اب کمیٹی کو بھجوایا گیا تو پھر کبھی بل منظور نہیں ہو سکے گا جس پر سپیکر ایاز صادق نے ایوان کی رائے سے نعیمہ کشور کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے کہا کہ ان لوگوں کو حقوق ملنے چاہئیں تاہم جو چیزیں اسلام کے خلاف ہیں ان کو دیکھا جانا چاہیے۔ نعیمہ کشور نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے اس کو کمیٹی کو ارسال کیا جانا چاہیے۔ اٹھارہ سال کے بعد ایسے افراد کی نسل کا فیصلہ اس پر چھوڑنے کا کام اسلام سے منافی ہے، اج کل اپنی جنس تبدل کروانے کانیا رجحان چل رہا ہے ہم ان چیزوں کا راستہ نہ کھولیں۔

سپیکر قومی اسمبلی نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔ بل کے تحت خواجہ سرا ئوں کوقومی شناختی کارڈ،ڈرایوئنگ لائسنس،پاسپورٹ اور چالڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے ،خواجہ سرائوں کو اپنی جنس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا،خواجہ سرائوں کو تعلیمی اداروں میںدیگر شہری کے برابر سہولیات حاصل ہوں گی ،خواجہ سرائوں کو ہراساں کرنے پرقانون کے مطابق سزا دی جا سکے گی۔

حکومت خواجہ سرائوں کو قابلیت کے مطابق سرکاری ملازمتوں فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریگی،بل کے تحت حکومت سرکاری اداروں بالخصوص اسپتالوں اور جیلوں میں مخنث افراد کیلئے خصوصی اقدامات کرے گی،حکومت طبی عملے کیلیے مخنث افراد کی بیماریوں اور طبی ضروریات پر ضروری تحقیق اور تربیت کے مواقع فراہم کرے گی۔مخنث افراد کو جرم یا جرائم میں ملوث ہونے پر علیحدہ قید خانوں اور جیلوں میں رکھا جائے گا ۔

بل کے تحت مخنث افراد کو مراعات ،آسان قرضہ سکیموں اور گرانٹس فراہم کرنے اور انہیں کاروبار شروع کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے گی،حکومت مخنث افراد کیلئے اجتماع کی آزادی کو لازمی طور پر یقینی بنائے گی۔جو شخص مخنث افراد کو زبردستی گداگری کیلئے ملازمت پر رکھے گا اسے 6ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بل منظور ہونے کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے بل باقاعدہ ملکی قوانین کا حصہ بن جائے گا۔ مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ،امداد اور بحالی اور انکی فلاح و بہبود کیلئے یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا قانون ہو گا،قانون پورے ملک میں وسعت پذیر ہو گا۔