قومی اسمبلی نے تیزاب یا آگ سے جلانے کی واقعات کی روک تھام کیلئے بل ترامیم کیساتھ منظور کر لیا

جو کوئی تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملہ کے جرم کا ارتکاب کرے اور اگر اس فعل سے کسی کی موت واقع ہو جائے تو اسے بامشقت عمر قید کی سز دی جائیگی ،تیزاب کے حملہ یا آگ سے جلانے کی کوشش کرنے والے کو 7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا، عدالت متاثرہ شخص کی عبوری مالی امداد کیلئے حکومت کو حکم دے سکے گی،متاثرہ شخص کا سرکاری ہسپتالوں میں فری علاج کیا جائیگا، تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملوں کی تفتیش60دن کے اندر مکمل کی جائیگی، تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کے مقدمات کی عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریگی اور7دن میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی،بل کا متن

منگل مئی 23:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کی واقعات کی روک تھام کیلئے بل ترامیم کیساتھ منظور کر لیا ۔بل کے تحت جو کوئی تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملہ کے جرم کا ارتکاب کرے اور اگر اس فعل سے کسی کی موت واقع ہو جائے تو اسے بامشقت عمر قید کی سز دی جائیگی ،تیزاب کے حملہ یا آگ سے جلانے کی کوشش کرنے والے کو 7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا، عدالت متاثرہ شخص کی عبوری مالی امداد کیلئے حکومت کو حکم دے سکے گی،متاثرہ شخص کا سرکاری ہسپتالوں میں فری علاج کیا جائیگا، تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملوں کی تفتیش60دن کے اندر مکمل کی جائیگی، تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کے مقدمات کی عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریگی اور7دن میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی،بل کا اطلاق اسلام آباد کی حدود تک ہو گا۔

(جاری ہے)

منگل کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)کی سینئر رہنما اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن نے تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2017 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈرسید نوید قمر نے بل میں مختلف ترامیم پیش کیں جن کی بل کی محرک کی جانب سے کوئی مخالفت نہ کی گئی اور تمام ترامیم کو منظور کرلیا گیا۔

اس کے بعد شق وار بل کی منظوری لی گئی۔ ماروی میمن نے بل کی منظوری پر پارلیمنٹ اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے بل کی سینٹ سے بھی متفقہ منظوری ہوگی، اس بل کے قانون بننے سے تیزاب پھینکے اور جلائے جانے کے واقعات میں کمی ہوگی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ یہ اہم بل ہے تاہم آج کی ترامیم نے ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو سزا دینے میں تاخیر ہوگی، توقع ہے کہ سینٹ اس کو بحال کردے گا۔

بل کے تحت تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کے جرم کا10رکنی نگرانی بورڈ قائم کیا جائے گا جس میں33فیصد خواتین کی نمائندگی ہو گی ،بورڈ کا صدر نشین وفاقی سیکر ٹری داخلہ ہو گا جبکہ دیگر ممبران میں بیت المال کا نمائدہ،2ارکان پارلیمنٹ،،2طبی افسران،2وکلاء،ایک ریٹائرڈ جج،انضباط تیزاب سے متعلق وزارت صنعت و پیداوار کا نمائندہ ،آئی جی پولیس،،این سی ایس ڈبلیو کا ایک نمائندہ اور سول سوسائٹی کے 2ارکان شامل ہوں گے۔

نگرانی بورڈ کا اجلاس 3ماہ میں کم از کم ایک دفع لازمی ہو گا،بل کے تحت وفاقی حکومت یا بورڈ اس وقت تک کہ متاثرہ شخص مالی طور پر خود کفیل نہ ہوجائے اس پناہ ،خوراک اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ذمہ داری لے گا۔حکومت تیزاب اور آگ سے جلنے کے متاثرین کیلئے ایک یا ایل سے زیادہ بحالی مراکز قائم کریگی۔بل کا اطلاق اسلام آباد کی حدود تک ہو گا۔