سینیٹ کے بعدقومی اسمبلی نے بھی انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2018 متفقہ طور پر منظور کر لیا

انسداد دہشت گردی مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں، گواہوں ، استغاثہ اور منسلک افرادکو تحفظ فراہم کیا جائیگا، گواہ کے تحفظ کیلئے عدالتی کارروائی میں فریقین کو فراہم کی جانے والی دستاویزات سے گواہ کا نام اور دیگر شناختی تفصیلات مٹا دی جائیں گی اور گواہ کا فرضی نام استعمال کیا جائیگا،گواہ کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان بھی لیا جا سکے گا اور پہچان میں نہ آنے کیلئے گواہ کی آواز بھی تبدیل کی جا سکے گی، بل کاتحت

منگل مئی 23:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سینیٹ کے بعدقومی اسمبلی نے بھی انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2018 متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ بل کے تحت انسداد دہشت گردی مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں، گواہوں ، استغاثہ اور منسلک افرادکو تحفظ فراہم کیا جائیگا، گواہ کے تحفظ کیلئے عدالتی کارروائی میں فریقین کو فراہم کی جانے والی دستاویزات سے گواہ کا نام اور دیگر شناختی تفصیلات مٹا دی جائیں گی اور گواہ کا فرضی نام استعمال کیا جائیگا،گواہ کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان بھی لیا جا سکے گا اور پہچان میں نہ آنے کیلئے گواہ کی آواز بھی تبدیل کی جا سکے گی۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے سینیٹ کی منظور کردہ صورت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کرنے کا بل انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2018 سینٹ کی منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔

(جاری ہے)

جے یو آئی (ف)کی نعیمہ کشور نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں کیا ہے، نوید قمر نے بتایا کہ یہ بل دہشت گردی کے واقعات میں گواہوں کو اور استغاثہ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہے۔

اس پر نعیمہ کشور نے کہا کہ وہ اس کی مخالفت نہیں کرتیں۔ اس کے بعد سپیکر نے ایوان سے اس کی شق وار منظوری لی۔ نوید قمر نے بل ایوان میں پیش کیا جس کی منظوری ایوان نے دے دی۔ بل کے تحت انسداد دہشت گردی مقدمات میں گواہ سے کسی مخصوص نوعیت کے سوالات نہیں پوچھے جائیں گے جس سے گواہ کی شناخت ظاہر ہو سکتی ہو،شناخت پریڈ گواہ کی سکریننگ کے ذریعے کی جائے گی جس میں اسکرینز پردوں یا دو طرفہ آئینوں کا استعمال ہوتا ہے تاکہ گواہان اور انکی شناخت کو ملزم ،عوام الناس اور میڈیا سے راز میں رکھا جا سکے جس کا مقصد اسے کسی دھمکی ،کسی سے براہ راست سامنا ہونے کے خطرات میں کمی لانا ہو۔