این ایچ اے نے گزشتہ پانچ سال کے دوران چار بڑے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر شروع کئے ، مجموعی مالیت 3380 ملین ڈالر اور لمبائی 882 کلومیٹر ہے ، پانچ نئے منصوبے بھی شروع کئے جائیں گے

چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی جواد رفیق ملک کا بورڈ آف انوسٹمنٹ اور انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب

منگل مئی 21:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی جواد رفیق ملک نے کہا ہے کہ این ایچ اے نے گزشتہ پانچ سال کے دوران چار بڑے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر شروع کئے ہیں جن کی مجموعی مالیت 3380 ملین ڈالر اور لمبائی 882 کلومیٹر ہے جبکہ پانچ منصوبے مستقبل میں بھی شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو مقامی ہوٹل میں بورڈ آف انوسٹمنٹ اور جیو گروپ کے اشتراک سے منعقدہ انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کانفرنس میں غیر ملکی سفراء، زراعت، صنعت، پاور سیکٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر سے متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر جواد رفیق ملک نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قومی شاہرات اور موٹرویز کے منصوبوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کیلئے اتھارٹی کے مرکزی دفتر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا فعال سیل قائم کیا ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو موٹرویز کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول اور قانونی مشاورت ایک ہی دفتر میں فراہم کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں این ایچ اے نے گزشتہ پانچ سال کے دوران چار بڑے منصوبے پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے شروع کئے جن میں 357 کلومیٹر لاہور۔۔

(جاری ہے)

اسلام آباد موٹروے کی ماڈرنائزیشن،136 کلومیٹر کراچی ۔حیدر آباد موٹروے ،89 کلومیٹر لاہور۔۔سیالکوٹ موٹروے اور 300 کلومیٹر حیدر آباد۔سکھر موٹروے کے منصوبے شامل ہیں، ان منصوبوںکی کل مالیت 3380 ملین ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے مزید 5 منصوبے شروع کئے جائیں گے،جن میں70 کلومیٹر سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے،،115 کلومیٹر کھاریاں۔

راولپنڈی موٹروے ،294کلومیٹر پنڈی بھٹیاں۔۔ملتان موٹروے،،43 کلومیٹر نوشہرہ۔۔پشاور ایکسپریس وے اور 50 کلومیٹر کراچی ناردرن بائی پاس کو6 رویہ موٹروے میں تبدیل کرنے کے منصوبے شامل ہیں، ان منصوبوں پر مجموعی طور پر 1830 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے روڈ نیٹ ورک کی ملک گیر لمبائی 13128 کلومیٹر ہے اور ملک کی 80 فیصد کاروباری ٹریفک این ایچ اے کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے۔