تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کے خون کے عطیے کے لئے کیمپ لگایا جائے گا، میونسپل کمشنر

منگل مئی 21:20

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا ہے کہ تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کے ایم سی بلڈنگ میں خون کے عطیے کی فراہمی کے لئے جلد ہی کیمپ لگایا جائے گا جس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران اور عملہ اپنے خون کے عطیات دے گا جبکہ متاثرہ بچوں کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام تمام پارکوں، تفریح گاہوں اور تاریخی مقامات کی مفت سیر بھی کرائی جائے گی اور انہیں لائبریریوں میں بھی آنے اور کتابیں پڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، تھیلے سیمیا کامرض مہلک ضرورہے مگر اس سے بچائو ممکن ہے پاکستان میں ہر سال تھیلے سیمیا سے متاثرہ تقریباً پانچ ہزار بچے پیدا ہورہے ہیں جنہیں زندگی دینے کیلئے ہر ماہ ایک خون کی بوتل دینے کی ضرورت پیش آتی ہے یہ ہمارا اخلاقی اور اجتماعی فرض ہے کہ ہم ان متاثرہ بچوں کو اپناصحتمند خون دے کر زندگی کی دوڑ میں واپس لائیں تاکہ یہ بھی دیگر عام صحتمند بچوں کی طرح اس ملک اور شہر کی تعمیر و ترقی میں بھر پور کردار ادا کرسکیں۔

(جاری ہے)

جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مزار قائد کے باہر عمیر ثناء فائونڈیشن کے زیر اہتمام تھیلے سیمیاکے عالمی دن کے موقع پر ’’تھیلے سیمیا آگہی چراغاں‘‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سماجی کارکن انصار برنی، فائونڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر ثاقب انصاری، ڈاکٹر فہیم احمد اور نذیر الحسن نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور چراغ جلائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سیدسیف الرحمن نے کہا کہ وہ والدین مبارکباد کے حقدار ہیں جو اپنے بچوں کو تھیلے سیمیاکے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود بہت ہمت اور ایک جذبے کے ساتھ انہیں زندگی کے میدان میں آگے کی طرف لے جارہے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ تھیلے سیمیاکے مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اس کے لئے سندھ اسمبلی نے قانون بھی پاس کردیا ہے جس کے تحت ہر شادی شدہ جوڑے کو اپنی شادی سے قبل تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ ضرور کرانا چاہئے کیونکہ اگر تھیلے سیمیا کسی ایک شخص میں پایا جائے تو وہ معمولی(Minor) کی صورت ہوتا ہے مگر یہی مرض اگر شادی کرنے والے مرد اور خاتون دونوں کو ہو تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد میں یہ مرض اہم (Major) کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ شادی سے پہلے مرد و خاتون تھیلے سیمیا کے حوالے سے اپنا معائنہ ضرور کروائیں تاکہ ان کی ہونے والی اولاد صحتمند ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور مصر نے اپنے ملک سے تھیلے سیمیاکے مرض کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ عمیر ثناء فائونڈیشن قابل مبارکباد ہے کہ وہ گزشتہ 13 سال سے تھیلے سیمیاسے متاثرہ بچوں کو خون کی فراہمی کاکام سرانجام دے رہی ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی کارکن انصار برنی نے کہا کہ تھیلے سیمیاسے متاثرہ بچوں کی مدد کرنے میں عمیر ثناء فائونڈیشن بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ اپنا صحتمند خون ان بچوں کو زندہ رکھنے کے لئے دے رہے ہیں یقیناً وہ شہید کے مرتبہ پر فائز ہونگے۔