پختونوں کو دھوکہ دینے والوں کا سیاسی انجام قریب ہے، امیر حیدر خان ہوتی

صوبے میں رہنے والے تمام لوگ پختون ہیں ،حقوق حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے، پختون اور قبائلی عوام فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں پختونوں کی تقسیم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں، صدر اے این پی خیبرپختونخوا

منگل مئی 21:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات پختونوں کے مستقبل کے لئے انہتائی اہم ہیں، صوبے میں رہنے والے تمام لوگ پختون ہیں ان کے حقوق حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے،،تحریک انصاف کے قول وفعل میں تضادہے ،میانوالی کے ’’ خان‘‘ نے خیبرپختونخوا کے عوام سے دھوکہ سے ووٹ لئے ان کے سیاسی انجام کے دن قریب آگئے ہیں ، نئے پاکستان کے دعویداروں نے کرپشن کے نئے نئے ریکارڈ قائم کرڈالے وہ منگل کی شام مردان کے شہری علاقہ بکٹ گنج میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں تحریک انصاف کے سرگرم رہنماؤں گل رحمان ،رحمت ستار،سجاد خان ،شہزادخان فیصل خان ،ناصر خان نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیار کرلی امیرحیدرخان ہوتی نے نئے شامل ہونے والوں کو پارٹی ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دی جلسے سے رکن اسمبلی احمد بہادرخان ،صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی، عمران ماندوری ،شاہ نواز خان اور این وائی او کے صدرحارث خان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اقتدار میں آکر ترقی کا پہیہ دوبارہ چلائیں گے اور صوبے میں رکے ہوئے ترقیاتی منصوبے پہلے سال مکمل کریں گے انہوںنے کہاکہ میانوالی سے آنے والے شخص نے دھوکہ سے پختونوں سے ووٹ لئے اور کامیابی کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ان کاکہناتھاکہ کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے قدم قدم پر نئی داستانیں رقم کیں ،سینٹ انتخابات میں کپتان نے ممبران پر ووٹ فروخت کرنے کے الزامات لگائے تو ان کے اپنے ممبران نے عمران خان پر سینٹ ٹکٹ کے فروخت کرنے کے جوابی تیر برسائے، انہوںنے کہاکہ تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس کے اپنے ممبران اوروزراء ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کی داستانیں بیان کرنے لگے ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہم فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں پختونوں کی تقسیم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں دوبارہ اقتدار میں آ کر پختونوں کے اتحاد و اتفاق اور یک جہتی اولیں ترجیح ہو گی، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت صوبے کو نظر اندازکردیاہے اقتدار میں آ کر تمام اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے اورترقی کاپہیہ دوبارہ چلائیں گے،انہوں نے کہا کہ پختونخوا سے ووٹ لینے والوں اور حکومت بنانے والوں نے پختونوں کے حقوق کیلئے کوئی دھرنا نہیں دیا ،126دن کا دھرنا بھی صرف پنجاب کی سیاست کیلئے تھا اور اب بھی اس صوبے کے وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پختونوں کی محرومیوں کے بدلے تخت اسلام آباد کی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ، مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ دوسری جماعتوں پر کرپشن کے الزامات لگانے سے پہلے عمران خان اپنی جماعت میں موجود کرپشن ختم کریں ، عوام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو پہچانیں ۔