فاٹا انضمام کے ذریعے خطے پر جنگ مسلط کرنے کی سازش روکی جا سکتی ہے ، میاں افتخار حسین

امریکہ تیزی سے داعش کو سپورٹ کر رہا ہے، صورتحال خراب ہوئی تو خطہ ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آجائے گا، فاٹا میںفوری طور پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر ختم کر کے مختلف علاقوں میں جاری کرفیو کا خاتمہ کیا جائے،رہنماء اے این پی

منگل مئی 21:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ پختونوں کی سرزمین پر جنگ کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس مقصد کیلئے امریکہ تیزی سے داعش کو سپورٹ کر رہا ہے ، فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے اسے ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے ممکنہ اثرات سے بچانے کی تدبیر ہو سکے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باڑہ خیبر ایجنسی بر قمبر خیل میں ہیروز گراؤنڈ میں کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوبائی نائب صدر عمران آفریدی ، شاہ حسین شنواری اور دیگر اہم قائدین نے بھی خطاب کیا ، میاں افتخار حسین نے جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ موجودہ نازک دور میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ کسی بھی صحت مند معاشرے کے قیام میں غیر نصابی سرگرمیوں کا انتہائی اہم کردار ہے ، انہوں نے میچ میں شکست کا سامنا کرنے والے کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ جیت اور ہار ہر کھیل کا حصہ ہوتا لہٰذا مزید محنت اور ہمت سے مقابلہ کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ کوششیں جاری رکھیں ، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قلم اور کتاب کی بجائے اسلحہ دیا گیا جس کی ہمیشہ سے باچا خان بابا اور ولی خان بابا نے مخالفت کی اور امن کیلئے عدم تشدد کا فلسفہ دیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دھمکیاں حد سے بڑھتی جارہی ہیں اور اگر صورتحال خراب ہوئی تو خطہ ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آجائے گا، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں عوامی مفاد میں بنانی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان دونوں تباہ ہو چکے ہیں ، انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو بھی اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے ملک اور قوم کے مفاد میں بنانی چائیں ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے ، انہوںنے کہا کہ فاٹا کے بیشتر علاقوں میں بچھی مائینز سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لہٰذا مزید جانی نقصان روکنے کیلئے ان مائینز کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے اور دہشت گردی و بارودی سرنگوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں نے مردو خواتین بچوں ، بزرگوں اور بیماروں کو مزید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں جاری ہفتہ وار کرفیو کا خاتمہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے سدباب کیلئے بھی سنجیدہ اقدامات کئے جائیں ۔

سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر صورت تعمیر کیا جائے گا تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ، پختونوں اور فاٹا کے عوام کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کیا گیا اور مرکزی حکومت شروع دن سے خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا ، انہوںنے استفسار کیا کہ حکمران 80پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے نہ صرف ہمارے صوبے میں سرمایہ کاروں کا راستہ بند کیا جا رہا ہے بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت ہوش کے ناخن لے تو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور عوام جس قدر آج بے بس اور لاچار ہیں پہلے کبھی نہیں تھے، انہوں نے کہا کہ صوبے کو کنگال کر دیا گیا اور مال بنانے کیلئے بی آر تی کا سہارا لیا جس کا خمیازہ پشاور کے عوام بھگت رہے ہیں۔