آئندہ الیکشن نظریہ پاکستان وعوام کی سلامتی وبقاء کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں ،مولانا عبدالحق ہاشمی

عوام خدمت سے سرشار ،مخلص دین دار قوتوں کوووٹ دیں ،صوبے کے مسائل سے روگردانی اور الیکشن کے بعد عوام کو ان کے حال پر چھوڑنے والوں کو مستردکردیں،سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان

منگل مئی 21:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ آئندہ الیکشن نظریہ پاکستان وعوام کی سلامتی وبقاء کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں عوام خدمت سے سرشار مخلص دین دار قوتوں کوووٹ دیں صوبے کے مسائل سے روگردانی اور الیکشن کے بعد عوام کو ان کے حال پر چھوڑنے والوں کو مستردکردیں ۔۔جماعت اسلامی کے ارکان ،ذمہ داران اور امیدواران یکم مئی سے شروع ہونے والی ملک گیر الیکشن فنڈ میں بھر پور حصہ لیں یہ مہم ہر سطح پر تنظیم اورکارکنوں کو یکسوئی کے ساتھ میدان عمل میں اُتارنے ،،جماعت اسلامی کے پیغام ،خدمات ،قربانیوں ،جدوجہد ،منشور اورعوامی ایجنڈے سے عوام کو روشناس کروانے اور الیکشن فنڈ جمع کرنے کا ذریعہ بنے گی ۔

الیکشن فنڈ مہم میں جماعت اسلامی کے کارکنان ،امیدواران ،ہر سطح کے ذمہ داران ،،حلقہ خواتین ،جے آئی یوتھ ،برادر رتنظیمات ،ذیلی تنظیمات ،ادارہ جات اورتمام شعبہ جات شریک ہوں گے اور کامیابی کیلئے بھر پورجدوجہد کریں گے مہم کیلئے کوپنزودیگر مواداضلاع کو روانہ کردیے ہیں ۔

(جاری ہے)

رمضان المبارک میں فنڈزریزنگ کیساتھ فہم القرآن،ترجمہ وتفسیرقرآن کلاسز میں بھی شرکت کریں۔

ان خیالات کااظہارا نہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی ذمہ داران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اجلاس صوبائی میں صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ ، نائب امراء بشیراحمدماندائی ،،ڈاکٹر محمدا براہیم ،زاہد اختر بلوچ ،ڈپٹی جنرل سیکرٹریز مولانا محمد عارف دمڑ،مولانا عبدالحمیدمنصوری ،،عبدالولی خان شاکر نے شرکت کی اس موقع پر سابقہ کاروائی ، ذمہ داران وشعبہ جات کی رپورٹ پیش کی گئی آئندہ لائحہ عمل الیکشن فنڈ، رمضان المبارک ،ودیگر منصوبہ بندی کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گیے ۔

شرکاء نے کہا کہ بلوچستان وکوئٹہ کے عوام اس بار ان لوگوں کو ووٹ نہیں دیں گے جنہوں نے صرف وعدے کیلئے مسائل ولوٹ مار میں اضافہ کیا ہے ۔ حکمرانوں نے ستر سال میں اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی ۔ 2018 ء قوم کے لیے ایک آزمائش کا سال ہے، اگر قوم نے ایک بار پھر لٹیروں اور کرپٹ مافیا کو گردنوں پر سوار کیا تو انہیں بدامنی ، غربت و جہالت ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نجات نہیں مل سکے گی ۔

عوام گلہ کرتے ہیں کہ اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہوتی ۔ جب بڑے بڑے سوداگر اور لٹیرے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے تو وہ قانون سازی کرنے کے بجائے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں گے ۔انہوںنے کہاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے سیاست کو پیسے کے کھیل سے آزاد کرنا ہوگا ۔ ستر سال سے ملکی اقتدار پر قابض کرپٹ ٹولے نے لاکھوں شہدا کے خون اور نظریہ پاکستان سے غداری کی ۔

جماعت اسلامی کی حکمرانوں کے ساتھ لڑائی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے ۔ حکمرانوں نے ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام کو نافذ نہیں ہونے دیا ۔ ہماری عدالتیں عوام کو انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں ۔ سودی نظام معیشت کی وجہ سے عام آدمی کا استحصال ہورہاہے اور ملک پر 80ارب ڈالر کے قرضے ہیں ۔ عوام صاف پانی ، تعلیم ، علاج اور روزگار کی سہولتوں کے لیے پریشان ہیں مگر حکمرانوں کو عوام کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

جماعت اسلامی کو ایک دن کے لیے اقتدار ملا تو ہم ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک ملک کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے ۔ آج بھی سیکولر اور مغرب کے ذہنی غلام حکمرانوں سے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کو خطرہ ہے ۔