اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی افسران کی سول سروسز میں تعیناتی پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے جواب طلب کرلیا

منگل مئی 21:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی افسران کی سول سروسز میں تعیناتی پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے جواب طلب کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آرمڈ فورسز کے حاضر سروس آفیسرز کی سول سروسز میں تعیناتی کے معاملے کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ شاہد امان نامی شہری کی درخواست پر سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔

عدالت نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے 6 سوالات کا جواب مانگ لیا جبکہ سیکریٹری دفاع اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین ایف پی ایس سی کو 14 مئی تک سوالات کا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

عدالت عالیہ کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کن بنیادوں پر آرمڈ فورسز کے افسران کو سول سروس میں تعینات کیا جاتا ہی دوسرا سوال کیا گیاکہ کیا آرمڈ فورسز کے افسر کے لیے سول سروس میں کوئی کوٹہ مختص ہی اگر مختص ہے تو کیا آرمڈ فورسز کے افسران مقابلے کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں تیسرے سوال میں پوچھا گیا کہ کیا مقابلے کے امتحان میں منتخب کامیاب افسر فورس سے ریٹائرمنٹ لیتے ہیں چوتھے سوال میں پوچھا گیا کہ دوران تربیت کوئی کیڈٹ سول سروس جوائن کرتا ہے تو ملٹری اکیڈمی سے ریلیز کا کیا طریقہ کار ہی پانچواں سوال یہ تھا کہ کیڈٹ کو جانے کی اجازت دینے کے بدلے کتنی رقم وصول کی جاتی ہی چھٹا سوال کے مطابق ایک میجر یا کیپٹن پر حکومت پاکستان کا کتنا خرچ آتا ہے، کیا سول سروس جوائن کرنے کی صورت میں یہ رقم واپس لی جاتی ہی