ستمبر 2016ء میں سٹیٹ بنک نے ورلڈ بنک کی رپورٹ کو رد کردیا تھا، نیب کے طریقہ کار اور تفتیش کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے

طلوح سحر کی خوشی کے ساتھ ساتھ جگر دریدہ بھی ہوں ، جو امن بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا، سیاسی خلفشار کی وجہ سے تباہ ہوتا نظر آرہا ہے، احسن اقبال پر حملہ کا راستہ فیض آباد اور اسلام آباد کی شاہراہوں پر دھرنوں نے ہموار کیا ہم نے وہ منصوبے مکمل کئے ہیں جو ناممکن تھے، بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، کراچی میں امن قائم ہوا، ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ کا ریکارڈ قائم کیا ، تاریخ کی سب سے زیادہ شرح نمو دے کر ملک کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا ْوفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

بدھ مئی 12:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے گزشتہ روز قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزام کے حوالے سے تحقیقات کے نوٹس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیب کے نظام کی تفتیش ہونی چاہیے‘ نواز شریف کی زیر قیادت قومی معیشت نے ترقی کا سفر شروع کیا ہے‘ کراچی سے بلوچستان اور بلوچستان سے فاٹا تک سحر نمودار ہو رہی ہے‘ پاک فوج کی بے مثال قربانیوں سے ایسے علاقوں میں امن آرہا ہے جہاں موت بکتی تھی‘ آئندہ بھی مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی زیر قیادت چاروں صوبوں کو ساتھ لے کر قومی ترقی کا یہ سفر جاری رکھے گی۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بجٹ پر بحث کے دوران کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں میں نے بے شمار سوالات کے جواب دیئے مگر اپنے جذبات اور رائے کا اظہار نہیں کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چند دن قبل میں نے میرن شاہ میں سحر طلوع ہوتے دیکھی ہے۔ یہ وہ بازار ہے جہاں موت بکتی تھی آج وہاں پر ایک نئی مارکیٹ کا افتتاح ہوا ہے۔

یہ سحر طلوع ہونے میں پاک فوج کی بے شمار قربانیاں ہیں‘ ایک ڈویژن فوج کے افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات میرے لئے ایک مشکل لمحہ تھا۔ ان قربانیوں سے امن حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح چند دن پہلے ہم نیلم جہلم گئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بتایا گیا تھا کہ یہ منصوبہ ناممکن ہے۔ نواز شریف کی محنت اور عوام کے جذبہ نے اس ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا اور اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی۔

ہم نے وہ منصوبے مکمل کئے ہیں جو ناممکن تھے ہم نے ان کو ممکن بنایا۔ بلوچستان میں کچھی کینال منصوبہ‘ ساہیوال بجلی منصوبہ دنیا کی تاریخ کا تیز ترین مکمل ہونے والا منصوبہ ہے۔ بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا۔ کراچی میں امن قائم ہوا۔ اس ملک میں اوسطاً ہر روز 6 دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ داتا دربار‘ آرمی پبلک سکول‘ حضرت عبداللہ شاہ غازی سمیت مزارات پر حملے ہوئے۔

اسی طرح ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ کا ریکارڈ قائم کیا اور ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ شرح نمو دے کر ملک کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ ہم نے روس‘ ایران‘ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے ہیں۔ ہماری سوچ یہ ہے کہ علاقائی خوشحالی کی طرف قدم بڑھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع کیا جس کے تحت بجلی کے کارخانے‘ بندرگاہیں اور شاہراہوں جیسے ناممکن منصوبوں کو ممکن کرکے دکھایا۔

ہم سب نے مل کر 2013ء سے 2018ء تک ملک کو روشن ہوتے دیکھا ہے۔ ہم نے کراچی میں بلوچستان اور بلوچستان سے فاٹا تک ردالفساد اور آپریشن ضرب عضب سے امن آتے دیکھا ہے۔ 2013ء میں ملنے والا پاکستان نواز شریف کی قیادت میں ترقی یافتہ پاکستان کی صورت میں واپس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فوٹو کاپیوں اور غیر مصدقہ دستاویزات کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل قرار دینے کا کیا مقصد تھا۔

بند فیکٹریاں چل گئی ہیں۔ اندھیرے سکول روشن ہوگئے ہیں۔ ہسپتالوں کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل کا انعقاد اس کے پرامن ہونے کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شاہراہیں اور منصوبے روشن پاکستان کی دلیل ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بزرگوں‘ مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں اور بیٹوں کے ووٹ کی عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

طلوح سحر کی خوشی کے ساتھ ساتھ جگر دریدہ بھی ہوں کیونکہ یہ امن جو ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا، سیاسی خلفشار کی وجہ سے تباہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ احسن اقبال پر حملہ کا راستہ فیض آباد اور اسلام آباد کی شاہراہوں پر دھرنوں نے ہموار کیا۔ بغض نواز شریف میں آئین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ ہمیں اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ ہم نے بطور جماعت عدالت عالیہ کے ہر فیصلے پر عمل کرنا ہے۔

اداروں کا اس سے زیادہ احترام میں نے نہیں دیکھا۔ مگر ہم سے ہمارا حق تنقید نہ چھینا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجا رہے تھے وہ چیئرمین نیب کی طرف سے نواز شریف پر 4.5 ارب ڈالر کے بوگس الزام پر سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جہاں نواز شریف کا نام ہی نہیں تھا ان کا نام کیوں آیا۔ رپورٹ میں منی لانڈرنگ کا لفظ ہی نہیں تھا۔

نیب کے طریقہ کار اور تفتیش کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ستمبر 2016ء میں سٹیٹ بنک نے ورلڈ بنک کی رپورٹ کو رد کردیا تھا۔ یہ نواز شریف کا ٹرائل نہیں عوام کے حق حاکمیت کا ٹرائل ہے۔ گزشتہ روز کے نیب کے پریس ریلیز نے ساری بات کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا محاصرہ جاری ہے۔ آئین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کا نظام عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلانا ہی جمہوریت کی روح ہے۔ آئین ہی جمہوریت کو یقینی بناتا ہے اور آئین کی عملداری یقینی بنانا ہوگی۔ نیب کے حالیہ نوٹس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں نیب کی تفتیش کی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پورے پاکستان کو ساتھ لے کر نواز شریف کی زیر قیادت ملک کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔