سابق وزیر اعظم نواز شریف پر پیسے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کا الزام

مریم نواز نے پیسے بھجوانے کا طریقہ بتا دیا ، تمسخرانہ انداز میں تنقید

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 12:20

سابق وزیر اعظم نواز شریف پر پیسے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 مئی 2018ء) : گذشتہ روز سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف پر مبینہ طورپر4.9 بلین ڈالررقم بھارت بھیجنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ جس پر چئیرمین نیب نے نوٹس لیتے ہوئے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ نواز شریف پر عائد اس الزام کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر تمسخرانہ انداز میں نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مجھے لگتا ہے یہ 5 ارب ڈالرز کبوتروں کے پروں سے باندھ کر انڈیا بھجوائےگئے اور سارے کبوتر نیب نے پکڑ لیے ہوں گے اور احتساب عدالت میں بطور گواہ نواز شریف کے خلاف گواہی کے لیے پیش ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ نواز شریف کے خلاف کبوتروں کی گواہی والا معاملہ بڑا پکا کیس ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ گذشتہ روز چیئرمین احتساب بیورو جسٹس(ر)جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر بھارت خطیر رقم بھجوانے کا نوٹس لے لیا ہے۔ نیب نے نوازشریف کے خلاف میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیا ہے۔ اعلامیہ نیب کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگرکے خلاف مبینہ طورپر4.9 بلین ڈالررقم بھارت بھیجنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

جس پرچیرمین نیب نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف جانچ پڑتال کا حکم دے دیا ہے۔ اعلامیہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگرکی جانب سے یہ رقم مبینہ طور پرمنی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوائی گئی۔منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارتی حکومت کے سرکاری خزانہ میں 4ارب 9 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بھجوائی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ ریمڈینس بک 2016ء میں موجود ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور دیگر کے اس غیرقانونی اقدام سے پاکستان کو نقصان جبکہ بھارتی حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے بھارت کو فائدہ پہنچا ۔واضح رہے اس سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے خلاف نیب کورٹ میں پانامہ کیس میں منی لانڈرنگ کے مختف ریفرنسز زیرسماعت ہیں۔ جبکہ پانامہ کیس میں اقامہ کی بنیاد پرسابق وزیراعظم نواز شریف کوسپریم کورٹ نے نااہل کیا تھا جس کے بعد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔