کپاس کو گلابی سنڈی سے بچانے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیںگے، ترجمان محکمہ زراعت

بدھ مئی 12:37

لاہور۔9 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) کپاس کے کاشتکار زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور کپاس کے ضرررساں کیڑوں خصوصاًً گلابی سنڈی اور سفید مکھی پر نظر رکھیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ امسال کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملہ سے بچانے اور ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیںگے۔

ترجمان نے بتایا کہ اگر کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی اور سفید مکھی کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو کاشتکار فصل پر محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ کیڑے مار زہر کا سپرے کریں۔ کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں منظور شدہ بی ٹی اقسام کا بر اترا ہوا بیج 6سے 8کلو گرام فی ایکڑ جبکہ ڈرل سے کاشت کے لئے 8سے 10کلو گرام بر اترا ہوا بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔

(جاری ہے)

کاشتکار بوائی سے پہلے بیج کو سفارش کردہ زہر لگائیںتاکہ فصل ابتداء میں رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاًً سفید مکھی کے حملہ سے محفوظ رہے ۔انہوں نے بتایا ہے کہ ڈرل سے قطاروں میں کاشت کی گئی کپا س کا قد ڈیڑ ھ سے دو فٹ ہونے پر پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا کر پٹریاں بنادیںتاکہ پانی کی بچت ہو جبکہ کپاس کے کھیتوں اور کھالوں کے ارد گرد جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں ۔

متعلقہ عنوان :