سعودی عرب کا جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے اور ایران پر پابندیوں کی بحالی کے فیصلے پر امریکی حمایت کا اعلان

ایران نے اس سمجھوتے کو خطے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا،سعودی عرب

بدھ مئی 12:56

ریاض ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے اور اس پر پابندیوں کی بحالی کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔الریاض میں جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ماضی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کی حمایت کی تھی اور اس کی جانب سے حمایت اس پختہ اعتقاد کی بنا پر تھی کہ اس سے مشرق وسطیٰ اور دنیا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی لیکن ایران نے اس سمجھوتے کو خطے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا۔

بیان مین مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت خطے میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی۔

(جاری ہے)

جنھوں نے ایران کی منتقل کردہ صلاحیتوں کی بدولت سعودی مملکت اور یمن میں شہریوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ، بین الاقوامی جہازرانی کے لیے بار بار خطرے کا موجب بنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کی۔۔سعودی عرب نے امریکی صدر کی ایران کے بارے میں اعلان کردہ حکمت عملی کا خیرمقدم کیا اور اس کی حمایت کا ا عادہ کیا ہے۔اس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری ایران ،اس کی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کارروائیوں اور حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے خلاف ایک پختہ اور متحدہ موقف اختیار کرے گی ۔