نئے وفاقی میزانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے مالی سال 2016-17ء کے مقابلہ میں دوگنا سے زیادہ 46 ارب67کروڑ روپے مختص

بدھ مئی 13:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ملک میں پرائمری سے لے کر پوسٹ ڈاکٹریٹ تک اعلیٰ تعلیم کا فروغ موجودہ حکومت کا وژن ہے اور نئے وفاقی میزانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے 46 ارب67کروڑ روپے مختص کئے گئے ہے۔ مالی سال 2017-18 میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے اس مد میں 35 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مالی سال 2016-17ء میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے گئے تھے ۔

اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو سٹرٹیجک فریم ورک 2025ء کی تیاری کی ہدایات پہلے سے ہی جاری کی ہیں۔ یہ فریم ورک ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق لانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں یہ فریم ورک مستقبل کیلئے اعلیٰ تعلیم کی سمت اور منزل کا تعین کرے گا اور اعلیٰ تعلیم کیلئے پانچ سالہ تعلیمی منصوبے اور قلیل المدتی منصوبوں کیلئے رہنمائی کرے گا، موجودہ حکومت نے چار برسوں میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ دوگنا کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق ایک طرف پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت تعلیم بالخصوص تکنیکی مہارت کے منصوبے شامل ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تعلیمی راہداری (نالج کوریڈور) قائم کی گئی ہے جس کے تحت 10ہزار پی ایچ ڈی سکالرز تیارکئے جائیں گے۔