ایران جوہری معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ گمراہ کن اور سنگین غلطی ہے، اوباما

ٹرمپ کے فیصلے سے امریکا کی بات خراب ہوئی مگر معاہدہ پھر بھی برقراررہے گا،سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری

بدھ مئی 13:30

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران سے جوہری معاہدے سے نکلنے کے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے امریکا کی بات خراب ہوئی ہے، امید ہے کہ امریکا کے بغیر بھی معاہدہ برقرار رہے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر سابق صدر باراک اوباما نے کہا کہ ایران ڈیل ختم کرنے کا فیصلہ گمراہ کن اور سنگین غلطی ہے، یہ واضح ہے کہ جوہری معاہدہ اب بھی فعال ہے۔بارک اوباما نے کہا کہ یورپی اتحادیوں کے علاوہ آزاد ماہرین اور موجودہ امریکی وزیر خارجہ خود اس معاہدے کے حامی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان گمراہ کن ہے۔

(جاری ہے)

سابق امریکی صدر نے کہا کہ جمہوریت میں ہمیشہ پالیسیوں میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ہر آنے والی حکومت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں تاہم مسلسل معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔۔باراک اوباما نے مزید کہا کہ کسی ایرانی اشتعال انگیزی کے بغیر معاہدے کو خطرے میں ڈالنا سنگین غلطی ہے۔سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔امریکا کی جانب سے جان کیری کی ہی قیادت میں ایران سے جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ جان کیری نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے امریکا کی بات خراب ہوئی ہے، امید ہے کہ امریکا کے بغیر بھی معاہدہ برقرار رہے گا۔