پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے تو ٹیکس لگ جاتا ہے ،ْسپریم کورٹ

بدھ مئی 13:39

پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے تو ٹیکس لگ جاتا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سپریم کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیںکہ پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے ٹیکس لگ جاتا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکسزکے اطلاق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا رہا ہے ،ْ جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں سیلزٹیکس لگا دیا جاتا ہے ،ْ پیٹرولیم مصنوعات پرجب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے تو ٹیکس لگ جاتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہی عالمی مارکیٹ میں پٹیرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں یہاں پر پیٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہمارے ہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، کیا بھارت کے ساتھ ہمارا آئی ٹی میں کوئی مقابلہ ہی عدالت نے حکم دیاکہ متعلقہ وزارت اور ادارے تحریری جواب داخل کریں، متعلقہ ادارے پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے وضاحت بھی کریں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتہ تک ملتوی کردی۔