فضلہ تلف کرنے پر 1 ملین درہم جرمانے کی سزا

متحدہ عرب امارات کی وفاقی کونسل نے فضلے کی غیر قانونی تلفی پر ایک ملین درہم جرمانے کی سزا کا اعلامیہ جاری کر دیا

Sadia Abbas سعدیہ عباس بدھ مئی 13:41

ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) متحدہ عرب امارات کے داراالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہونے والی 16 ویں قانون سازی باب کے تیسرے عام اجلاس کی 18 ویں میٹنگ میں وفاقی قومی کونسل (ایف این سی) نے متحدہ عرب امارات میں مربوط فضلہ مینجمنٹ پر ایک وفاقی قانون منظور کیا ہے ۔ مزید تفصیلات کے مطابق اجلاس کی صدارات ایف ایم سی کے اسپیکر، ڈاکٹر امال عبداللہ ال قوباسی نے کی ۔

وفاقی قومی کونسل کے فوکل پرسن نے اس سیشن میں ماحول کی حفاظت کے لئے اس قانون کی اہمیت پر زور دیا اوربتایا کہ اس قانون کے پاس ہونے سے کس طرح سے انسانی صحتکو ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے گا ۔ کونسل نے مزید بتایا کہ اس قانون کے پاس ہونے سے فضلےکی وجہ سے ہونے والے منفی اثرات کو روکنے یا کم کرنے میں مدد ملے گی ۔

(جاری ہے)

کونسل نے کہا کہ اس قانون کے پاس ہونے سے ریاست کی اقتصادی سطح کی کوششوں پر مثبت اثتار مرتب ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ پر فضلے کو تلف کرنے کے بارے میں پائیدار اور سمارٹ حل ڈھونڈیں جانے کی جنب کوششوں میں تیزی آئے گی ۔

اس قانون کے مطابق کسی بھی قیام کرنے کی جگہ پر کوڑاپھینکنے، دفن کرنے، جلانے یا ضائع کرنے یا کھلے علاقوں، پانیوں، عوامی پارکوں، یا کسی اور رہائشی جگہ پر پھینکنے والوں کو 1 ملین درہم جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا ۔ یہ قانون مندرجہ ذیل فضلہ تلف کرنے والے عوامل اور محرکات پر لاگو ہو گا : پیداوار کو ضائع کرنے، علیحدگی، مجموعہ، منتقل، اسٹوریج، دوبارہ استعمال یا ری سائیکلنگ اور ریاست کے اندر اندر کسی بھی زون میں کوڑے کو تلف کرنا وغیرہ ۔

ایسی کسی بھی حرکت میں ملوث کسی بھی شہری یا غیر ملکی کو 1 ملین درہم جرمانے کی سزا سنائی جائے گی ۔ تاہم جوہری اور تابکاری فضلے کی تلفی اس قانون سے خارج ہے ۔ کونسل نے اس قانون سے متعلق مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا پاس کرنے کا مقصد ریاست میں فضلے کی تلفی سے متعلق ایک مربوط نظام کرنا ہے تاکہ شہریوں کو فضلے سے یا اُسکو تلف کرنے کے مراحل سے پیدا ہونے والی آلودگی سے بچایا جا سکے ۔