کشمیر یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سینٹرل کشمیر یونیورسٹی کے طلباء کے زبردست احتجاجی مظاہرے

بدھ مئی 14:09

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کشمیر یونیورسٹی ، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سینٹرل کشمیر یونیورسٹی کے طلباء نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اتوار کوجنوبی کشمیرمیں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران ایک اسسٹنٹ پروفیسر سمیت کشمیری نوجوانوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گاندر بل کے رہائشی ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کو بھارتی فوجیوںنے شوپیاں کے گائوں بڈی گام میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے نو دیگر نوجوانو ںکے ہمراہ شہید کردیا تھا۔ گزشتہ روز ایک زخمی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا جس سے شہید نوجوانوںکی تعدا بڑھ کر 11ہوگئی ہے۔ طلباء نے یونیورسٹیوں میں جمع ہو کر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔

(جاری ہے)

اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء نے بھی اونتی پورہ میں مظاہرے کئے۔ طلباء نے یونیورسٹی میں جمع ہو کر بھارت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔ سینٹرل کشمیر یونیورسٹی بڈگام کے مختلف شعبوں کے طلباء نے یونیورسٹی کیمپس میں اکٹھے ہوکر آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ طلباء نے شہید نوجوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ میں بھی ادا کیا۔

ادھرشوپیاں اور پلوامہ کے اضلاع میں نوجوانوںکی شہادتوں پر مکمل ہڑتال کی گئی ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ضلع شوپیاں میںمسلسل تیرہویں روز ہڑتال کی گئی ۔ 13روز قبل ترک وانگام کے ایک رہائشی کو شہید کردیا گیا تھا ۔بعد ازاںسمیر ٹائیگر اور دیگر نوجوانوں کو ضلع پلوامہ کے علاقے دربگام میں شہید کردیاگیا تھا ۔ اتوار کو بھارتی فوجیوں نے کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر سمیت دس نوجوانوںکو شوپیاں کے گائوں بڈی گام میں شہید کیاتھا ۔ گزشتہ روز ایک زخمی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا جس سے شہید نوجوانوںکی تعدا بڑھ کر 11ہو گئی ہے ۔دونوں اضلا ع میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے ۔