کاشتکاروں کو سبزیوں کی کاشت میں فیکٹریوں کا زہر آلود اور سیوریج کاگند اپانی استعمال نہ کرنے کی ہدایت

بدھ مئی 14:24

فیصل آباد۔9 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو سبزیوں کی کاشت میں فیکٹریوں کا زہر آلود اور سیوریج کاگند اپانی استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ کاشتکار اپنے کھیتوں میں تازہ ، سستی ، زرعی زہروں اور دیگر الائشوں سے پاک سبزیوں کو فروغ دیں اور اس ضمن میں ماہرین زراعت کی مشاورت سے سبز کھادوں کااستعمال یقینی بنایاجائے تاکہ ٹماٹر، پیاز، آلواور دیگر فصلات کی زہروں اور زہریلے اثرات سے پاک شاندار پیداوار کاحصول ممکن بنایاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ زرعی سائنسدان سبزیوں کے زیادہ پیداواری صلاحیت کے معیاری اورخالص بیجوں کی تیاری اور ان کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی پرزیادہ توجہ دیں کیونکہ صرف جاپان اورانڈیا سے ہر سال کروڑوں روپے کے سبزیوں کے بیج درآمد کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ انسانی خورا ک میں سبزیوں کا استعمال 300 سی350 گرام فی کس روزانہ ہونا ضروری ہے جبکہ پاکستان میں یہ مقدار 100سی150گرام روزانہ ہے جو سفارش کردہ مقدار سے آدھی سے بھی کم ہے ۔

انہوں نے سائنسدانوں سے اپیل کی کہ وہ ٹماٹر ، پیاز اور آلو کے بیجوں کی کمرشل پیمانے پر تیاری کیلئے پیداواری ٹیکنالوجی مرتب کرکے زرعی لٹریچر بھی تیار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ امسال بلوچستان میں پیاز کی بمپر کراپ سے 7 لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوگی جس سے مارکیٹ میں پیاز کے نرخوں میں کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پھول گوبھی، مرچ ، ٹماٹر اور پیاز سمیت دیگر سبزیوں کی کامیاب کاشت اور بہتر پیداوار کے لیے مختلف علاقے موجود ہیں۔