اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں5.5 شدت زلزلے کے جھٹکے

خوف و ہراس پھیل گیا‘لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے‘ زلزلہ کی زیر زمین گہرائی 12 کلومیٹر ‘مرکز بنوں سے 30 کلومیٹر شمال تھا‘بنوں میں زلزلے کے باعث اسکول میں بھگدڑمچنے سے 15طلبہ زخمی

بدھ مئی 14:53

اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں5.5 شدت زلزلے ..
اسلام آباد/بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں5.5 شدت زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، لو گو ں میں خوف و ہراس پھیل گیا ، کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ،،بنوں میں زلزلے کے باعث گورنمنٹ مڈل اسکول ٹانچی میں بھگدڑمچنے سے 11 طلبہ زخمی ہوگئے۔

بدھ کو اسلام آباد میں 8بجکر 35 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کا دورانیہ 20 سے 30 سیکنڈز تھا۔۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی، جس کی زیر زمین گہرائی 12 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز بنوں سے 30 کلومیٹر شمال تھا۔ پشاورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق پشاورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں، میران شاہ، بنوں،، کوہاٹ، دیر، سوابی، پارہ چنار، مردان، سوات،، چترال، مانسہرہ، واہ کینٹ، ایبٹ آباد ہزارہ، اور نوشہرہ میں جب کہ پنجاب کے مختلف شہروں میانوالی، سرگودھا اور بھکرمیں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ گھبرا کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

دوسری جانب بنوں زلزلے کے باعث اسکول میں بھگدڑ مچنے سے 15 طلباء زخمی ہوگئے۔ گورنمنٹ مڈل اسکول ٹانچی بازار میں معمول کی پڑھائی جاری تھی کہ اچانک زمین اور عمارت ہلنے سے بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور طلبا نے بھاگنا شروع کردیا، اسی دوران دھکم پیل کے باعث بچوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ بعد ازاں زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال بنوں پہنچایا گیا، جہاں مرہم پٹی کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق آخری اطلاعات موصول ہونے تک کنٹرول روم کو کسی بھی ضلع سے جانی یا مالی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 25 دسمبر 2015 کو پاکستان کے مختلف حصوں میں آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے کے باعث 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے، جب کہ 2014 اکتوبر میں بھی 7.5 شدت کے زلزلہ کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان میں 8 اکتوبر، 2005 کو آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔زلزلے کے نتیجے میں 80 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔