نامور شاعر مجید امجد کی 44ویں برسی پرسوں منائی جائے گی

بدھ مئی 14:53

فیصل آباد۔9 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) نامور شاعر مجید امجد کی 44ویں برسی پرسوں 11مئی بروزجمعہ کو نہائت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ مجید امجد 29جون 1914ء کو جھنگ کی زرخیز ادبی زمین پر پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام عبدالمجید امجد تھا ۔مجید امجد کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا نظم گو شاعر قرار دیا گیا۔ ان کی اردو شاعری وہ پھول ہے جو اپنی تکنیک و موضوعات کی وجہ سے کبھی مرجھا نہیں سکتا ۔

ان کی لوح مزار پہ ان کا جو شعر کندہ ہے وہ بھی ان کے جاوداں ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ان کی نظمیں یو ں تو تمام سرکردہ رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہیں مگر ان کی زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ "عروج" جھنگ میں ان کی نظمیں سب سے زیادہ تعداد میں شائع ہوئیں۔ 1939ء میں انگریزوں کے خلاف ان کی ایک نظم شائع ہونے پر انہیں اخبار سے رخصت ہونا پڑا۔

(جاری ہے)

مجید امجد کی زندگی میں ان کاشعری مجموعہ "شب رفتہ " شائع ہوا تھا جس کا پیش لفظ انہوںنے منظوم لکھا ۔

اسے 1958ء میں "نیا ادارہ" لاہور نے شائع کیا تھا تاہم اس کی اشاعت کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے رد عمل پر مجید امجد ناخوش تھے۔ انہوں نے 11مئی 1974ء کو فرید ٹائون ساہیوال میں وفات پائی تاہم ان کی تدفین آبائی وطن جھنگ میں ہوئی۔ان کے انتقال کے بعد معاشرے کے عام دستور کے مطابق مجید امجد کی عظمت کو پہچانا گیا حتیٰ کہ 2000ء میں شہر ادب و ثقافت لاہور سے شائع ہونے والے مئو قر ادبی جریدے "کاغذی پیرہن" کی طرف سے کئے جانے والے سروے کے مطابق اس کے بعد انہوںنے اپنی زندگی میں کوئی مجمو عہ شائع نہیں کروایا ۔ ان کی بے وقت موت کے بعد ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا نے مکمل کلام "کلیات مجید امجد " کے عنوان سے 1979ء میں شائع کیا۔

متعلقہ عنوان :