قومی اسمبلی میں اکثر جماعتوں نے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرانے کی تجویز کی حمایت کردی

بدھ مئی 15:39

قومی اسمبلی میں اکثر جماعتوں نے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں اکثر جماعتوں نے سابق وزیراعظم پر منی لانڈرنگ سے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بیرون ملک بھجوانے پر نیب چیئرمین کی جانب سے اخباری خبر کو بنیاد بنا کر تحقیقات کے لئے پریس ریلیز جاری کرنے پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرانے کی تجویز کی حمایت کردی جبکہ پیپلز پارٹی نے مشاورت کرکے (آج) جمعرات کو جواب دینے کی مہلت مانگ لی۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ سابق وزیراعظم پر الزام اس ملک کی توقیر کے منافی ہے۔ ہم انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ہمیں حقائق کو سامنے رکھ کر معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 کروڑ عوام کے نمائندوں کو اس الزام کی تحقیقات کرنی ہوگی۔

(جاری ہے)

یہ پری پول رگنگ کا ایک حربہ ہے۔

اس ملک کے سابق وزیراعظم پر سنگین الزام عائد کیا گیا ہے ہم تحقیقات چاہتے ہیں اور اگر کوئی اس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالے گا تو وہ شفاف انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ڈالے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعظم نے جو بات ایوان میں کی ہے اس پر غور ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہیے اور اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کسی آدمی پر آپ غلط الزام لگاتے ہیں تو شریعت میں بھی اس کی سزا مقرر ہے۔

پارلیمان اس کی تحقیقات کرے اگر الزام سچ ہے تو نیب تحقیقات کرے اور اگر غلط ہے تو نیب کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ نیب کا ادارہ سیاسی انتقام کے لئے ایک ڈکٹیٹر نے بنایا تھا۔ پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے اور آئین کو پارلیمان نے بنایا ہے اس لئے پارلیمان سپریم ہے اور اس سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے دور میں نیب میں ترامیم کے حوالے سے بل تیار کرلیا گیا لیکن اس کی منظوری نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے حوالے سے ہماری غلطیاں موجود ہیں‘ موجودہ حکومت نے بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ وزیراعظم نے جو تجویز دی ہے وہ احسن ہے اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کی رائے لینی چاہیے۔