اصغرخان کیس ثابت کرتا ہےلاڈلےکوکیسےبچایاجاتا رہا،عمران خان

کیس سے پتاچلتا ہےکہ (ن) لیگ اسٹیبلشمنٹ کی کیسے تخلیق ہے،سپریم کورٹ میں سیدھے سادھے مقدمے کی 20 سال تک سماعت نہیں کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 14:59

اصغرخان کیس ثابت کرتا ہےلاڈلےکوکیسےبچایاجاتا رہا،عمران خان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 مئی 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اصغرخان کیسسے پتاچلتا ہے، (ن) لیگ اسٹیبلشمنٹ کی کیسے تخلیق ہے،اصغرخان کیس ثابت کرتا ہےکہ لاڈلے کوکیسے بچایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا نوازشریف کو لاڈلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں سیدھے سادھے مقدمے کی 20 سال تک سماعت نہیں کی گئی۔

  اصغرخان کیس یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ لاڈلے کوکیسے بچایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصغرخان کیس واضح کرتا ہے کہ (ن) لیگ کیسے اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق ہے اور کیسے اس پر سرمایہ کاری کی گئی۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس پرعملدرآمد سے متعلق درخواست پرفیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد ریمارکس دیے کہ سینئرکے غیرقانونی اقدام کوماننے بارے آئین میں کیا لکھا ہے؟ سینئر افسر کہے کہ کسی کوبغیرٹرائل قتل کردو توکیا قتل کردو گے؟ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کرسکتا۔

اس موقع پرجسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فوج اور اس کی چین کمانڈ کی توہین نہ کریں۔ گزشتہ روزسپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کوبھی عدالت میں طلب کیا گیا۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کیلئے اگر کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی بلانا پڑتا ہے توبلایا جائے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مشرف پر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ حکومت کا تھا۔ اب اصغر خان کیس میں بھی حکومت عملدرآمد کا فیصلہ خود کرے کہ کیس کونیب بھیجا ہے یا ایف آئی اے سے تحقیقات کروانی ہیں۔