ایران کو امریکی ائیربس کی جانب سے طیارے برآمد کرنا کا پرمٹس منسوخ کرنے کا اعلان

ٹرمپ کے فیصلے سے قبل ہی کمپنی ایران کو طیارے برآمد کرنے کے معاہدے کومنسوخ کرنے پر غورکررہی تھی،امریکی ائیربس

بدھ مئی 15:48

ایران کو امریکی ائیربس کی جانب سے طیارے برآمد کرنا کا پرمٹس منسوخ ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ایک سینئر امریکی عہدے دار نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد وزارت خزانہ ایران کو برآمدات سے متعلق اٴْن اجازت ناموں کو منسوخ کر دے گی جو اس وقت شہری ہوابازی کی کمپنیوں کے پاس ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزارت خارجہ کے مذکورہ سینئر عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ پہلے 90 روز کے دوران وزارت خزانہ مخصوص پرمٹس کو منسوخ کر دے گی جو شہری ہوابازی سے متعلق خصوصی اجازت ناموں کی پالیسی کے تحت جاری کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت خزانہ نجی سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور باقاعدہ صورت میں ان پرمٹس کو منسوخ کرنے پر کام کرے گی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ایئربس کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ حرکت میں آنے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دست برداری کے فیصلے پر غور کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے لیے وقت درکار ہے اور آئندہ اقدامات کمپنی کی اندرونی پالیسی اور برآمدات سے متعلق پابندیوں اور نگرانی کے قوانین کی مکمل پاسداری کے مطابق ہوں گے۔ایرانی فضائی کمپنی ((ایران ایئر) نے 38.3 ارب ڈالر مالیت کے 200 مسافر طیاروں کا آرڈر دیا تھا۔ ان میں 100 طیارے ایئربس سے ، 80 بوئنگ سے اور 20 اے ٹی آر کمپنی سے طلب کیا گئے۔ یہ تمام سمجھوتے امریکی پرمٹس کے مرہون ہیں۔