نیب کے نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اپوزیشن تقسیم ،ْ

پیپلز پارٹی نے مشاورت کیلئے ایک د ن کی مہلت مانگ لی ،ْ تحریک انصاف کی مخالفت

بدھ مئی 16:45

نیب کے نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اپوزیشن تقسیم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے اپنی قیادت سے مشاورت کیلئے ایک د ن مہلت کی مانگ لی ہے جبکہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے نیب کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف پر بھارت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم بھجوانے کے نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرکے انہیں (آج) جمعرات تک آگاہ کریں۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے تجویز کے بعد پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ہی نیب کا ادارہ قائم کیا ہے‘ ان کو یہاں طلب کرنے کا مقصد کام روکنے کے مترادف ہوگا‘ یہ ایک نئی روایت ہوگی‘ کمیٹی کے قیام کے حوالے سے ہم اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

سپیکر نے کہا کہ کل تک انتظار کر لیتے ہیں آپ پارٹی سے مشورہ کرلیں ،ْ پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا کہ نیب کی رپورٹ ٹھیک ہے یا غلط وہ اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم یہ ورلڈ بنک کی رپورٹ ہے جس دن یہ رپورٹ سامنے آئی تھی اسی دن وزارت خزانہ کو یہ معاملہ اٹھانا چاہیے تھا ،ْیہ کمیٹی نہیں بننی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ اگر یہ معاملہ اداروں کے پاس گیا ہے تو ہمیں اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے ،ْوزیراعظم کی کمیٹی قائم کرنے کے حوالے سے تجویز پر پارٹی سے مشاورت کے بعد فیصلے سے آگاہ کریں گے ،ْ جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے کہا کہ کرپشن کے معاملات پر ہم نے اداروں کا رخ کیا۔

اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے شفافیت نہیں آئے گی۔ سیاسی دبائو سے اداروں میں انصاف کا قتل ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کریں اور ان کے فیصلے سے (آج) جمعرات تک سپیکر کو آگاہ کریں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ نیب کے نوٹس کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مقصد کسی ادارے کی اتھارٹی یا اختیارات کو چیلنج کرنا نہیں‘ حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ادارے اسی پارلیمنٹ سے اختیارات حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ملک میں خوف و ہراس کی صورتحال ہے۔ سرکاری ادارے فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے تھا۔ ہمیں اپنے گھر کا اختیار باہر نہیں دینا چاہیے تھا۔ گھر کے فیصلے گھر میں کرنے چاہئیں تھے۔ جو ایشو آج سامنے آیا ہے اس کا قطعاً مقصد نہیں ہے کہ ہم کسی ادارے کی اتھارٹی چیلنج کر رہے ہیں۔

ہم صرف حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی باری بھگت چکے ہیں اگلی باری کسی اور کی بھی آسکتی ہے۔ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں صرف قوم کو حقائق بتانا چاہتے ہیں۔ ملک کے عوام پارلیمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں 1990ء سے اس ایوان کا رکن ہوں۔ پوری پارلیمنٹ سے گزارش کرتا ہوں ملک اور قوم کے لئے بہتر فیصلہ کریں۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم کسی ادارے کی اتھارٹی چیلنج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کی تجویز پر کمیٹی قائم ہونی چاہیے۔پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ یہ رویہ درست نہیں کہ اگر کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کا نام آئے تو پارلیمنٹ اداروں کو دبانے کی کوشش کرے، ہم نیب کو دبائو میں لانے کے لیے کسی کمیٹی کی حمایت نہیں کریں گے، وزیراعظم کی باتوں پر حیرت ہوئی، ورلڈ بینک رپورٹ میں جو آیا ہمیں نہیں معلوم یہ ٹھیک ہے یا غلط، جب یہ رپورٹ آئی تھی تو وزارت خزانہ کو صورتحال واضح کرنی چاہئے تھی، اگر ایک رپورٹ پر ایک ادارے نے نوٹس لیا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ نواز شریف پر نیب کے الزامات پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خدشات درست ہیں، سابق وزیراعظم پر اتنی بڑی رقم باہر بھیجنے کا الزام لگایا گیا ہے، کمیٹی کے قیام کے حوالے سے ہم پارٹی سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔۔ایم کیوایم کے رہنما شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے رہے معاملات پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں، نیب کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز اچھی ہے، کمیٹی کے قیام پر ہم مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔