پاکستانی جامعات کو دیے گئے فنڈز میں بدعنوانی کا انکشاف

پاکستان کی87 جامعات کو 2573 تحقیقی منصوبوں کے لیے 6ارب 77 کروڑ روپے دیے گئے تھے

بدھ مئی 17:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان میں اعلی تعلیم کے ذمہ دار ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے قومی تحقیقی پروگرام برائے جامعات میں پانچ ارب 38 کروڑ روپے کی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز کے تحت پاکستان کی87 جامعات کو 2573 تحقیقی منصوبوں کے لیے 6ارب 77 کروڑ روپے دیے گئے تھے۔

تاہم تمام جامعات صرف 610 منصوبے ہی مکمل کر سکیں جن پر ایک ارب 39 کروڑ روپے لاگت آئی۔فہرست میں شامل پاکستانی جامعات میں 30 ایسی بھی ہیں جنہوں نے 53 کروڑ روپے کے فنڈز لینے کے باوجود ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کیا۔اسلام آباد کے کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کو 59 کروڑ روپے دیے گئے جس میں انہیں 230 منصوبے مکمل کرنے تھے۔

(جاری ہے)

اسی طرح نیشنل یونیورسٹی کو 147 منصوبوں کے لیے 31 کروڑ روپے کی رقم دی گئی۔اسلام آباد میں قائم جامعہ قائداعظم کو 188 تحقیقی منصوبوں کے لیے 57 کروڑ جب کہ بین الاقومی جامعہ اسلامیہ )انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی(کو 54 منصوبوں کے لیے 12 کروڑ کی رقم دی گئی۔جامعہ کراچی کو8 کروڑ روپے دیے گئے، انہیں227 منصوبے مکمل کرنے تھے لیکن صرف80 منصوبے مکمل ہوسکے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو268 منصوبوں کے لیے 65 کروڑروپے دیے گئے، البتہ 85 تحقیقی منصوبے ہی مکمل ہو سکے۔لاہور، پشاور،، سرگودھا، جامشورو، سوات،، راولپنڈی اور مظفرآباد میں واقع جامعات کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے جاری کردہ رقوم کا درست استعمال نہیں کیا۔