ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس

بدھ مئی 16:50

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز پشاور کے سروسز کلب میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع’’معاشرے کی تعمیر میں مائوں کا کردار‘‘ تھا۔اجلاس کی صدارت اسپیکر شوریٰ ہمدرد ڈاکٹر صلاح الدین نے کی جبکہ مہمان مقررہ محترمہ شمامتہ العنبر ،سابق صدر وویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز تھیں۔

شمامتہ العنبر نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندان کی اہمیت اور بچوں کی اخلاقی تربیت میں ماں کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر میں ماں کے کردار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، ماں کی قربانیوں اور عظمت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہمارے مذہبی اور سماجی دائرے کا تعلق ہے اس میں ماں کی فطرت اور طبیعت بھی اولاد کے بدن کا حصہ بنتی ہے ،ماں گھر کی سربراہ اور نگہبان ہوتی ہے ،ماں کے قدموں میں جنت اسی لئے ہے کہ ماں کے اس کردار کو فراموش نہ کیا جا سکے ۔

(جاری ہے)

بچوں کی تعلیم و تربیت اور شخصیات کی تعمیر میں صحیح کردار ماں ہی ادا کر سکتی ہے ۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’ماں کی گودبچے کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے‘‘۔ بچوں کی تعمیر و ترقی کا سرچشمہ ماں کی گود ہی ہے۔الله تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں ایک بڑی نعمت اولاد ہے جنہیں یہ نعمت حاصل ہوتی ہے وہ بجا طور پر خوش بھی ہوتے ہیں اور اپنے رب کے شکر گزار بھی۔

اولاد کی نعمت حاصل ہونے کے بعد سمجھ دار والدین اُن کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اپنے وسائل کے مطابق ضروریات زندگی کی فراہمی جہاں والدین کے فرائض میں شامل ہوتی ہے وہیں اُن کی بہترین تربیت اور اچھی تعلیم بھی اُن کے پیش نظر ہوتی ہے کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخل ہونے سے پہلے کے تین چار سال ہر بچہ وہی کچھ سیکھتا اور اپناتا ہے جو وہ اپنے گھر میں دیکھتا اور سُنتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی ماہیت کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ مائیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اُس کی گود میں پرورش پانے والے نونہال کو اُن تمام اچھی اقدا ر سے روشناس کروائیں جنہیں اپنا کر وہ معاشرے کا ایک مفید فرد بن سکے۔اجلاس میں سردار فاروق احمد جان بابر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین اعظم خان، روشن خٹک ، جواد احمد ،غزالہ یوسف، مشتاق حسین بخاری اور دیگر نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔