آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث (کل) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ پر بحث سمیٹیں گے

تنقید برائے تنقید کی بجائے سب کو ایک دوسرے کا احترام یقینی بنانا چاہیے ،ْوزیر قانون محمود بشیر ورک مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے کر عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہے ،ْصبیحہ نذیر خارجہ پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کا کردار ممکن بنانے کے حوالے سے میرا بل مسترد کردیا گیا ،ْشیری مزاری بجٹ ایک آئینی تقاضا پورا کرنا ہے، بعض نادان اپنی حرکتوں سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،ْعالیہ کامران

بدھ مئی 17:26

آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث (کل) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث (کل) جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ پر بحث سمیٹیں گے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن نواب علی وسان نے بجٹ 2018-19ء پر بحث کے دوران کہا کہ سابق وزیراعظم ترقیاتی کاموں کے حوالے سے صرف پنجاب کی مثال دیتے ہیں حالانکہ انہیں دیگر صوبوں کا بھی ذکر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دور اقتدار میں کئی بڑا ہسپتال نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں پیپلز پارٹی نے جمہوریت کا ساتھ اس لئے دیا کہ جمہوریت مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا۔ سب سے پہلے پاکستان ہے‘ اگر ملک ہے تو یہ پارلیمنٹ اور سب کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن سندھ حکومت کا کریڈٹ ہے، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوئوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک نے کہا کہ تنقید برائے تنقید کی بجائے سب کو ایک دوسرے کا احترام یقینی بنانا چاہیے۔ نواب علی وسان کی طرف سے اٹھائے گئے بعض نکات کے جواب میں وزیر قانون محمود بشیر ورک نے کہا کہ تمام پچھلی باتوں کو بھول جائیں اور مل کر نئے سفر کا آغاز کریں، ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔ سپیکر نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔

بحث کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ایران سے تعلقات اور خراب ہوئے‘ امریکہ کے دبائو میں آکر گیس پائپ لائن منصوبہ پر کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا، ایران ہمیں مصالحتی کونسل میں لے جارہا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس وقت بدترین ہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ناممکن کو ممکن بناتی۔

حکومت کو امریکہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کو بھی جیل سے فرار کرانے کی اطلاعات ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ خارجہ پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کا کردار ممکن بنانے کے حوالے سے میرا بل مسترد کردیا گیا۔ رمیش لعل نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سال کا بجٹ پیش نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سندھ میں لوڈشیڈنگ اسی طرح ہی ہے کوئی بہتری نہیں آئی۔

سندھ میں پینے کا پانی نہیں دیا جارہا۔ این ایف سی ایوارڈ پیپلز پارٹی نے دیا۔ وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ گرونانک یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان ہوا تھا تاہم اس کا وجود نہیں۔ پی پی پی نے سندھ میں اقلیتوں کو سکیمیں دی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی صبیحہ نذیر نے وفاقی بجٹ کو عوامی امنگوں کا ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے کر عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہے مسلم لیگ (ن) کی رکن صبیحہ نذیر نے کہا کہ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا۔

مہنگائی کی شرح کے مطابق پشنروں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ مناسب ہے۔ حکومت نے ہسپتالوں میں اضافہ کیا ہے تاہم آبادی میں اضافہ سے یہ انتظامات کم ہیں، صحت کا شعبہ وفاق کے پاس ہونا چاہیے تھا۔۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے فارن ریزرو کم اور برآمدات میں بھی کمی ہوگئی ہے۔

حکومت کو براہ راست ٹیکسوں میں کمی کرنا چاہیے تھی۔ وزیر خزانہ نے جس حلقے سے الیکشن لڑنا ہے وہاں پر کام شروع کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد معاملات صوبوں میں پھنس گئے ہیں۔ مردم شماری میں ہمارے ڈیڑھ کروڑ لوگ کم دکھائے گئے ،ْ حقوق دیں تو صوبے کی آواز نہیں آئے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان اور دیگر رہنمائوں کو ایف آئی اے انکوائری کے لئے اسلام آباد طلب کر رہی ہے ان سے کوئی انکوائری کرنی ہے تو کراچی میں کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین نے پانچ سال بھرپور تعاون کیا ہے ان کے لئے حکومت کم از کم 3 اعزازیے دے۔جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی جو خوش آئند ہے۔ عالیہ کامران نے کہا کہ حکومت کامیابی سے مدت پوری کر رہی ہے۔ اسمبلی نے دہشت گردی‘ دھرنے‘ سیاستدانوں کی نااہلی‘ منتخب وزیراعظم کی نااہلی کے باوجود معیشت نے یہ سب برداشت کیا، ان حالات میں ایسا ہی بجٹ دیا جاسکتا تھا، بجٹ ایک آئینی تقاضا پورا کرنا ہے، بعض نادان اپنی حرکتوں سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، سیاسی نظام میں بے جا مداخلت بھی مسائل کی ایک وجہ ہے۔

معاشرہ نظام کے ساتھ بڑی چھیڑ چھاڑ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے عوام کو سہولیات دینی ہیں تو اس نظام کو چلنے دیں پھر بہتر بجٹ بھی آئیں گے اور مسائل حل ہوں گے۔۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرنل (ر) امیر اللہ مروت نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے ہوائی اڈوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کا وعدہ پورا کیا جائے‘ سی پیک میں ضلع لکی مروت‘ بنوں‘ ٹانک کو ترجیح دی جائے۔

کرنل امیر اللہ مروت نے کہا کہ وزیر دفاع نے آپریشن ردالفساد کو کامیابی قرار دیا ہے، یہ فوج کی کامیابی ہے۔ ووٹ کی عزت ہونی چاہیے‘ سابق وزیراعظم نے بنوں میں جلسے میں اعلان کیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے ہوائی اڈوں کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں گے تاہم یہاں سے اندرون ملک بھی پروازیں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں مغربی روٹ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

لکی مروت‘ بنوں‘ ٹانک کو ترجیح دی جائے ان علاقوں کو گیس دی جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک سے دہشت گردی‘ توانائی کے بحرانوں کا خاتمہ کیا ہے‘ اپوزیشن کے پاس بجٹ پر بات کرنے کے لئے کچھ نہیں‘ بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے خواتین پارلیمنٹرین کو بہت عزت و احترام دیا ہے یہ خوش نصیبی ہے۔

خواتین نے بھی ایوان کی کارروائی چلانے میں بھرپور کردار ادا کیا چھٹا بجٹ پیش کرنے پر مسلم لیگ (ن) کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملک سے دہشت گردی‘ توانائی کے بحرانوں کا خاتمہ کیا ہے۔ اپوزیشن کے پاس بجٹ پر بات کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ آج صنعتی علاقوں میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے۔ تنقید برائے تنقید سے گریز کیا جائے۔ یہ تسلیم کریں کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

معیشت بہتر ہوئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبدالستار بچانی نے کہا کہ جب تک پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی پورے پاکستان کا نہیں سوچیں گی ملک نہیں چلے گا۔ انہوںنے کہا کہ پانچ سال تحمل سے گزارنے پر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سی پیک کا زیادہ حصہ پنجاب میں لگایا جارہا ہے۔

زراعت کے لئے پانی ضروری ہے اس کے بغیر زراعت ممکن نہیں ہے۔ ہم پر الزام ہے کہ سندھ کو زرداری نے تبادہ کردیا ہے۔ حلفیہ کہتا ہوں کہ سندھ کے کافی علاقے ایسے ہیں جہاں پینے کا پانی تک نہیں ہے۔ سندھ کے بعض علاقوں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہے۔ ہم پر الزام ہے کہ ہم بجلی چوری کرتے ہیں۔ واپڈا کا عملہ بجلی چوری میں ملوث ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چھوٹے دیہاتوں میں شمسی توانائی دی جائے اور دیہاتوں میں بجلی چوری کی روک تھام کے لئے سنگل فیز بجلی دی جائے۔

جب تک پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی پورے پاکستان کا نہیں سوچیں گی ملک نہیں چلے گا۔ سرور خان نے کہا کہ یہ اسمبلی چھٹے بجٹ کا کریڈٹ لے رہی ہے لیکن لفظوں کے گورکھ دھندے میں جائے بغیر میں کہوں گا کہ یہ ایک روایتی بجٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے لیکن بدقسمتی سے اس شعبے کے لئے تمام زر تلافی بتدریج ختم کی جارہی ہیں۔

ہم سبزیاں اور دالیں تک امپورٹ کر رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے بھارت میں زرعی شعبے کے لئے مراعات کا تفصیل سے ذکر کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی کسانوں کے لئے بھی اس طرح کی مراعات دی جائیں۔ انہوں نے لوڈشیڈنگ کی صورتحال پر کہا کہ دیہی علاقوں میں 18,18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے ڈیموں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

نعیمہ کشور خان نے نکتہ اعتراض پر فرانس کی حکومت کی طرف سے قرآنی آیات میں تبدیلی کی مذمت کی اور کہا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ پر فرانس سے احتجاج کرنے اور اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور ہمیں اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کی ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں (آج )جمعرات کو بحث سمیٹی جائے گی جبکہ جمعہ کو چارجڈ اخراجات پر بحث کی جائے گی جبکہ ہفتہ اور پیر کو 2018-19ء کے مطالبات زر اور کٹوتی کی تحریکوں پر بحث کی جائے گی۔

14 مئی کو مالی بل 2018ء پر غور اور اس کی منظوری دی جائے گی جبکہ ضمنی مطالبات زر 2017-18ء پر بحث 15 مئی کو ہوگی اور اسی روز اس پر ووٹنگ بھی ہوگی۔