اسلام آباد چیمبر ، یو ایس ایڈ سمیا، سٹیٹ بینک اور بینک الفلاح کے تعاون سے ایس ایم ایز فنانسنگ بارے ورکشاپ

چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے معیشت کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں، شیخ عامر وحید

بدھ مئی 17:32

اسلام آباد چیمبر ، یو ایس ایڈ سمیا، سٹیٹ بینک اور بینک الفلاح کے تعاون ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یو ایس ایڈ سمیا، سٹیٹ بینک اور بینک الفلاح کے تعاون سے ایس ایم ایز کی فنانسنگ کے کے بارے میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے ایس ایم ایز کی فنانشل انکلوژن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ یو ایس ایڈ سمیا، سٹیٹ بینک اور بینک الفلاح کے نمائندگان نے اس موقع پر ایس ایم ایز کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بینکوں کی سکیموں کے بارے میں بھی تاجر برادری کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یو ایس ایڈ ایس ایم ای ایکٹیویٹی ( یو ایس ایڈ سمیا) کی ایس ایم ای فنانس سپیشلسٹ انعم امتیاز الٰہی نے کہا کہ یو ایس ایڈ سمیا نے ایس ایم ایز کیلئے 35ملین ڈالر کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کی مدت پانچ سال ہے اور اس منصوبے کے تحت ان کا ادارہ پاکستان میں ایس ایم ایز کی فنانشل اور آپریشنل پرفارمنس کو بہتر کرنے، ان کی استعداد کار کو بڑھانے، انٹرپرینیور شپ کو فروغ دینے، ایس ایم ایز کی سیلز کو بڑھانے کے نئے مواقع پیدا کرنے، ان کے ریونیو کو بہتر کرنے اور خواتین کے بزنسز کو سپورٹ کرنے کیلئے کوششیں کرے گا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ہاسپیٹیلیٹی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز سمیت ایس ایم ایز کے 6 شعبوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوںنے اس امید کا اظہار کیا کہ اس منصوبہ سے پاکستان میں ایس ایم ای شعبے کو بہتر ترقی ملے گی۔ بینک الفلاح کے ریجنل منیجر برائے کریڈٹ زوہیر اسماعیل نے کہا کہ ان کے بینک نے ایس ایم ایز کیلئے کئی پرکشش فنانسنگ سکیمیں تیار کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الفلاح کاروبار فنانس سکیم کے تحت ایس ایم ایز اپنی مختلف مالی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 5 لاکھ سے تین کروڑ تک کا قرضہ لے سکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ الفلاح ملکیت فنانس سکیم کے تحت ایس ایم ایز طویل المدت قرضہ جبکہ الفلاح مرچنٹ لائن کے تحت ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ تک قرضہ لے سکتی ہیں۔ اسی طرح الفلاح فلیٹ فنانس سکیم کے تحت چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے 3 لاکھ سے 50 کروڑ تک اور الفلاح بل اینڈ کیش سکیم کے تحت 10 لاکھ سے 5 کروڑ تک کا قرضہ حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی فنانشل انکلوژن کو بہتر کرنے کیلئے ان کا بینک ان اداروں کو نان فنانشل ایڈوائزری سروسز بھی فراہم کرتا ہے۔سٹیٹ بینک کے اسسٹنٹ چیف منیجر عماد قیصر نے اپنے خطاب میں پاکستان میں ایس ایم ایز کی فنانسنگ کے فروغ کیلئے سٹیٹ بینک کی پالیسیوں اور سکیموںپر روشنی ڈالی۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے کل قرضوں میں ایس ایم ایز کا حصہ اس وقت صرف 6 سے 8 فیصد ہے جبکہ سٹیٹ بینک نے 2020ء تک اس کو بڑھا کر 17 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔

انہوںنے کہا کہ سٹیٹ بینک نے ایک نیشنل فنانشل انکلویژن حکمت علی وضع کی ہے جس کے تحت بینکوں، مالیاتی اداروں اور ایس ایم ایز کی استعداد کار کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ سٹیٹ بینک نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے ایس ایم ایز کیلئے صرف چھ فیصد شرح پر مختلف فنانسنگ سکیمیں جاری کی ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر یہ کاروباری ادارے بہتر ترقی کر سکتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ سٹیٹ بینک ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ پاکستان کے کل کاروباری اداروں میں سے 90 فیصد سے زائد ایس ایم ای شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک ان کاروباری اداروں کی بہتر ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دیں اور ان کو آسان قرضوں کی سہولت فراہم کریں تا کہ یہ کاروباری ادارے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں مزید فعال کرداد کر سکیں۔