قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری رہی

بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہوا، معیشت اور صنعت کا پہیہ چل رہا ہے، طاہرہ اورنگزیب موجودہ حکومت کے دور میں بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جو منصوبے شروع کئے گئے اس کی مثال نہیں ملتی، کرن حیدر

بدھ مئی 17:38

اسلام آباد۔ 09 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی‘ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور چیلنجوں کے باوجود درست سمت قرار دیا جبکہ اپوزیشن نے روایتی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔

2014ء میں بجٹ دھرنوں کے دوران دیا‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہوا، معیشت اور صنعت کا پہیہ چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 برسوں میں پہلی مرتبہ فلم کے لئے قومی پالیسی بنائی گئی، زراعت کے لئے کام ہوا، قومی ایکشن پلان موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے جس کی وجہ سے کراچی سمیت پورے ملک میں امن قائم ہوا۔

(جاری ہے)

اسی طرح لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کے حوالے سے بھی موجودہ حکومت نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر کی حمایت کی اور کہا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ رفیق احمد جمالی نے کہا کہ ان کے حلقہ میں گھاج ڈیم کی تعمیر میں مشکلات کا سامنا ہے اس لئے حکومت اس کی تعمیر پر توجہ دے، اسی طرح گورکھ ہلز سٹیشن کی ترقی کے لئے وفاق کی طرف سے 50 فیصد بجٹ نہیں دیا گیا‘ گورکھ سٹیشن پر موسم کوہ مری جیسا ہوتا ہے جہاں ملک بھر سے لوگ آتے ہیں اس لئے اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔

انہوں نے لوڈشیڈنگ اور زرعی پانی کی کمیابی پر تنقید کی۔ انہوں نے بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی ٹیوب ویلوں کے لئے فلیٹ ریٹ رکھنے کا مطالبہ کیا اور اپنے حلقہ انتخاب میں گیس کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام شہید بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھنے کا مطالبہ بھی کیا اور اس سلسلے میں سپیکر سے رولنگ دینے کا مطالبہ کیا۔

مولانا گوہر علی شاہ نے چھٹا بجٹ پیش کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی اور کہا کہ آئین کے مطابق 70 برسوں میں ہم نے ریاستی طور پر اسلام پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر ہمیں قانون سازی کرنی چاہیے۔ ہم سودی معیشت سے جان نہیں چھڑا سکے۔ ہماری آبادی اور معیشت کی خرابی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم سود پر معیشت کو چلا رہے ہیں۔

انہوں نے رمضان المبارک کے تناظر میں لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی اور زراعت کے شعبے کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی کے ملک عامر ڈوگر نے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس میں غریبوں کے لئے کسی قسم کی مراعات نہیں ہیں۔ دوسری طرف ایمنسٹی سکیم کے ذریعے مراعات یافتہ طبقے کو مزید سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بھی حمایت کی اور کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب اس علاقے کے عوام کو ان کے حقوق ملیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی رکن کرن حیدر نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جو منصوبے شروع کئے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج حب میں نئی آئل ریفائنری کا افتتاح ہو رہا ہے جس سے ملک کو سالانہ 225 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے لوٹے لے کر کس طرح کی قدریں متعارف کرائی جارہی ہیں اس کے برعکس محمد نواز شریف کا طرز عمل قوم کے سامنے ہے کہ وہ دلیری اور بہادری کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کا لیڈر کاغذی پہلوان ہے۔

نعیمہ کشور نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مذہبی اور لبرل سیکولر انتہا پسندی موجود ہے، کل میں نے شراب کے حوالے سے بل میں ترامیم جمع کرائی تھیں جو نہیں لی گئیں جس پر چیئر کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ اس معاملہ پر آج بحث نہیں کر سکی۔ فاٹا سے رکن قیصر جمال نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ رواں سال بھی فاٹا کے لئے 24 ارب روپے رکھے گئے جس سے قبائلی عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ایک ہزار سے زائد تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے ہیں جن کی بحالی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اسی طرح 55 لاکھ قبائلیوں کے لئے پمز کی طرح کا کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ فاٹا کے عوام کو ہیلتھ کارڈز میں ان کا مناسب حصہ دیا جائے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے متاثر ہونے والے آئی ڈی پیز کی بحالی اور تباہ حال گھروں کی تعمیر نو اور بارودی سرنگوں کے انسداد کے لئے جامع اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے کسی علاقے میںگیس کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ قیصر جمال نے کہا کہ ہمیں پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کے جذباتی نعروں سے اختلاف ہے لیکن ان کے سنجیدہ مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر پارلیمان ان مسائل کے حل کے لئے کام کرتا تو یہ صورتحال پیش نہ آتی۔ مولانا قمر الدین نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں گوادر کی بات تو ہوگئی ہے لیکن خضدار اور دیگر علاقوں کی ترقی کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اس لئے بجٹ میں بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں سڑکوں‘ گیس‘ صحت اور مفاد عامہ کے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔

انہوں نے خضدار سے کراچی تک باقاعدہ پروازیں شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی مذمت اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ ثریا جتوئی نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تیل و گیس کے منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار دیا جائے، کے فور منصوبہ کی تکمیل کے لئے تمام مطلوبہ فنڈز فراہم کئے جائیں اور سندھ کو اس کے حصے کا پانی دیا جائے۔

ڈاکٹر نگہت شکیل نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کراچی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور پورے ملک کے لئے کماتا ہے لیکن بجٹ میں کراچی کے عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے کراچی کے لئے 667 بسیں دینے کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں صرف دس بسیں فراہم کی گئیں۔ یہ صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے اس لئے وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کراچی میں پانی‘ صحت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب ہونا چاہیے۔ عامرہ خان نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ سیاستدانوں کے بارے میں منفی نقشہ کھینچتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں بھی ایسا نقشہ بن جاتا ہے، میں نے بطور رکن بہت کچھ سیکھا ہے۔

سردار کمال خان چانگ نے کہا کہ میرے حلقے میں شاہراہوں کے منصوبے مکمل کئے جائیں، ایم کیو ایم پرانی سوچ بدلے جیسے ہم سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں ایسے ہی مہاجر بھی ہیں۔ ہماری سوچ ایک محب وطن کی طرح ہونی چاہیے۔ صوبائی حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں ریکارڈ کام کئے ہیں۔ ہم نے دھرنے میں حکومت اور جمہوریت کا ساتھ دیا۔ ایم کیو ایم کے رکن فیصل رضا عابدی نے کہا کہ موبائل کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیں اور حکومت کو ان کمپنیوں کی جانب سے جو ریونیو مل رہا ہے وہ بھی عوام کی جبوں پر ڈاکہ ڈال کر دیا جارہا ہے، کے پی ٹی سے 1200 ملازمین کو نکالا گیا تھا اور بعد میں انہی آسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات وقت کی ضرورت ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی اور بلواسطہ ٹیکسوں سے کام لیا جارہا ہے۔ انہوں نے زرعی ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن ثریا اصغر نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت منصوبوں اور اقدامات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) نے اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کے بجٹ میں اضافہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کا خاتمہ اور ملک میں امن و امان کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز نے اپنا کردار ادا کیا ہے تاہم لیڈر شپ کو کریڈٹ سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ملک کے لئے گیم چینجر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو چینی آرہے ہیں وہ زمین کی خریدوفروخت کر رہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ پاکستانیوں کے ساتھ 50 فیصد کی شراکت داری کی بنیاد پر قواعد کا اطلاق کیا جائے۔

انہوں نے شکرگڑھ اور ورکنگ بائونڈری سے ملحقہ علاقوں میں بھارت کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لئے مستقل بنیادوں پر شیلٹر ہومز کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ شمس النساء نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عوام دوست نہیں‘ ریلیف کا وعدہ کیا گیا لیکن مراعات صرف مراعات یافتہ طبقہ کے لئے دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سندھ کو 60 سے 70 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ سندھ کا کسان پریشان ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ پانی کے مسئلہ کو حل کیا جائے اور اس پر سندھ کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے۔ مسرت رفیق مہیسڑ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔