یوریاکھاد کی قیمتوں میںاضافہ قابل مذمت ہے،حکومت فی الفور اضافہ واپس لے‘میاں مقصود احمد

ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ کاشتکاروں کا استحصال بند کیاجائے،یوریاکھاد کی قیمت میں اضافے سے کسانوں کوسالانہ12ارب روپے کااضافی بوجھ برداشت کرناپڑے گا‘صدرمتحدہ مجلس عمل پنجاب و امیر جماعت اسلامی پنجاب کا خطاب

بدھ مئی 18:29

یوریاکھاد کی قیمتوں میںاضافہ قابل مذمت ہے،حکومت فی الفور اضافہ واپس ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر اور امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ یوریاکھاد کی فی بوری قیمت میں100روپے کااضافہ قابل مذمت ہے،اس اضافے سے کاشتکاروں کے مسائل مزیدبڑھ جائیں گے ،کسان پہلے ہی حکومتی بے حسی کا شکار ہیں انہیں کسی قسم کاکوئی ریلیف میسر نہیں ،ایسی صورتحال میں کھادوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی،حکومت فی الفور اس اضافے کو واپس لے تاکہ کاشتکاروں کو کچھ ریلیف میسر آسکے ،یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے حکمرانوں کو شعبہ زراعت اور اس سے وابستہ 70فیصد آبادی کے مسائل اور ان کے حل سے کوئی غرض نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ حکمران مسلسل کسانوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔پہلے گنے کے کاشتکاروں کو مکمل اور بروقت ادائیگیاں نہیں کی گئیں،پھر گندم کے کاشتکاروں کو درپیش باردانہ کی عدم فراہمی سمیت دیگر مسائل اور اب کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ تشویش ناک امر ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت کا ملک کی معاشی ترقی میں سب سے بڑا اور نمایاں حصہ ہے اس کو نظر انداز کرنے کا مطلب ملک کی ترقی وخوشحالی سے پہلوتہی کرنے کے مترادف ہے۔

بھارت سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک شعبہ زراعت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔کاشتکاروں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرتے ہیں۔انہیں سبسڈی اور دیگر رعایتی پیکیجز دیئے جاتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔میاں مقصوداحمد نے مزیدکہاکہ ملک وقوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ شعبہ زراعت کو ترقی دی جائے۔کسانوں کا استحصال فوری بند کیاجائے۔۔بجلی اور کھاد کے نرخوں میں نمایاں کمی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ یوریاکھاد کی سالانہ12کروڑ بوری استعمال ہوتی ہے۔100روپے اضافے سے کاشتکاروں کو سالانہ12ارب روپے کانقصان برداشت کرنا پڑے گا جبکہ72ارب روپے کی ملکی زرعی پیداوار شدیدمتاثر ہوگی۔حکمران سنجیدگی کامظاہرہ کریں اورزراعت کش اقدامات کرنے سے بازآجائیں۔

متعلقہ عنوان :