یو ای ٹی لاہور میں ٹیکنالوجی پراجیکٹس کی نمائش کا انعقاد

بدھ مئی 18:38

لاہور۔9 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ، الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں سالِ آخر کے طلباء و طالبات نے اپنے پراجیکٹس کی نمائش کا انعقاد کیا۔اس نمائش میں 200 طلباء نے 50سے زائدپراجیکٹس پیش کئے۔یہ پراجیکٹس پاور سسٹم، کنٹرول سسٹم،کمپیوٹر،الیکٹرونکس، انرجی، کاشتکاری، روبوٹک ٹیکنالوجی،، ہوم آٹومیشن اور کمیونیکیشن کے متعلق تھے جبکہ ربوٹک آرم جو کہ انسان کی پلس کی مدد سے کام کرتا ہے شائقین کی توجہ کا مرکزبنا۔

اسی طرح آواز سے چلنے والی سمارٹ وہیل چیئرجو گوگل میپ کی سہولت سے انسان کو منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔ آواز کے ذریعے چلنے والا ربورٹ نابیناافراد کیلئے ایک بے مثال سہولت ہے کیونکہ یہ روبوٹ آپکی کہی ہوئی ہر بات سن کر اس کام کو کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

اس نمائش کا مقصد صنعتی پیمانے پربین الاقوامی اورریسرچ میں درپیش مسائل کا ادراک کر کے انکا حل پیش کرنا تھا۔

اس نمائش میںبیشتر ملکی اور بین الاقوامی صنعتوں نے طلباء کی جانب سے پیش کئے جانے والے پراجیکٹس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اورطلباء کو تربیت و ملازمت کے مواقع فراہم کئے ۔وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالدکا کہنا تھا کہ یونیورسٹی اپنے طلباء کوایسے مواقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کوبہتر طریقے سے بروئے کار لا سکیں۔

جامعہ نے اپنے طلباء کو بہترین اساتذہ اور جدید آلات و ٹیکنالوجی سے آراستہ لیب کی سہولیات فراہم کیں جس کے نتیجے میں طلباء کی شاندار کارکردگی دیکھنے میں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کی جانب سے نمائش کیلئے رکھے گئے ماڈلزنہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار ہیںبلکہ انتہائی حیران کن بھی ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ انکی حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔

یو ای ٹی کے طلباء میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو کہ طلبا کو جدید تعلیم سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ ادارہ آئندہ بھی طلباء کی بہتری کیلئے ریسرچ ، ڈویلپمنٹ اور سائنسی تحقیق کے رحجان کو فرض دینے کے مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس ایسے اذہان پیدا ہوںجو ملک کیلئے کارآمد ثابت ہو سکیں۔طلبہ کے مطابق یہ پراجیکٹس اساتذہ کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہیں۔وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے بھی پراجیکٹ ایڈوائزرز اور سپر وائزرز کی کاوشوں کوسراہا۔