چاول کی بر آمدات میں دس ماہ میں مجموعی طور پر27فیصد ضافہ ہوا ہے،رفیق سلیمان

بدھ مئی 18:47

چاول کی بر آمدات میں دس ماہ میں مجموعی طور پر27فیصد ضافہ ہوا ہے،رفیق ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن آف پاکستان REAPکے سینیئر وائس چیئرمین رفیق سلیمان نے ماہ اپریل کے اختتام پر چاول کی بر آمدات کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں موجودہ مالی سا ل جولائی تا اپریل 2018میں چاول کی بر آمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ موجودہ مالی سال میں ہم نی32لاکھ28ہزار میٹرک ٹن چاول بر آمد کیا ہے جس کی مالیت تقریباًً ایک ارب 57کروڑ ڈالر ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران ہم نی28 لاکھ7ہزار میٹرک ٹن چاول بر آمد کیا تھا جسکی مالیت تقریباًً ایک ارب 23کروڑ ڈالر تھی یعنی اس سال چاول کی برآمدات میں مقدار کے حساب سے 15فیصد اور مالیت کے حساب سے 27فیصد ترقی ہوئی ہے ۔

(جاری ہے)

رفیق سلیمان نے چاول کی بر آمدات میں نمایاں اضافے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے چاول کی بر آمدات خصوصی باسمتی چاول شدید بحران کا شکار تھی اب الحمد اللہ REAPکے ممبران کی مسلسل اور انتھک محنت سے ہم اس بحران سے نکل چکے ہیں ۔ اسکے علاوہ REAP، TDAPاور کسٹم کے عہدیداران کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے بھی چاول کی بر آمدات کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہو ا ہے ۔

گذشتہ دنوں REAPنے اپنے ممبران کی انتھک محنت اور کاوشوں کے اعتراف میں ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈز کا اہتمام کیا جس میں صدر مملکت ممنون حسین صاحب نے پاکستان کے رائس ایکسپورٹرز کو بہترین کارکردگی پر ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈ سے نوازا۔ REAPکے عہدیداران اور چاول کے ممتاز بر آمد کنندگان پاکستانی چاول کیلئے نئی مارکیٹوں کی تلاش کیلئے دنیا کے کئی ممالک میں تجارتی وفود کی شکل میں دورہ کر رہے ہیں اس سلسلے میں REAPکا ایک اہم تجارتی وفد چیئرمین REAPچوہدری سمیع اللہ کی قیادت میںگذشتہ ماہ ایران کا دورہ کر کے واپس آچکا ہے جو کہ باسمتی چاول کی بہت بڑی اور پر کشش مارکیٹ ہے کچھ سال پہلے پاکستانی چاول کی بڑی مقدار ایران بر آمد ہوتی تھی جو کہ اب کم ہو کر ایک لاکھ ٹن تک رہ گئی ہے ۔

اسکی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینل کی عدم دستیابی تھی۔ انکی کاوشوں کے نتیجے میں گزشتہ روز ایران کے حکومتی ادارے گورنمنٹ ٹریڈنگ کارپوریشن (GTC)نے 20ہزار ٹن باسمتی چاول کا ایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس میں پاکستانی کمپنیاں بھی شرکت کریں گی اور امید ہے کہ اس ٹینڈر کے نتیجے میں خطیر زر مبادلہ پاکستان کو فراہم ہوسکے گا۔ انہوںنے چین کو چاول کی برآمدات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستانی چاول کا بڑا خریدار ہے اور گذشتہ دس مہینوں میں 2لاکھ74ہزار ٹن چاول بر آمد ہوچکاہے جسکی مالیت100ملین ڈالر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسوقت بین الاقوامی مارکیٹ میں چاول کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس سال پاکستان کی چاول کی فصل بھی مقدار اور معیار کے حساب سے بہت اچھی ہے مزید برآں پاکستانی چاول کی قیمتیں دیگر حریف ممالک تھائی لینڈ اور ویتنام کے مقابلے میں نسبتاًً کم ہیں جسکی وجہ سے بین الاقوامی خریداروں کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے اور امید ہے کہ رواں مالی سال میں چاول کی بر آمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی رائس ایکسپورٹرز ملک کی معاشی ترقی کے لئے انتھک محنت کر رہے ہیں اور زر مبادلہ کے حصول کیلئے بڑے پیمانے پر سر مایہ کاری کر رہے ہیں اور چاول کی ویلیو ایڈیشن کیلئے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں ۔