سابق چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن و دیگر کی درخواست ضمانت پر ملزمان کے وکلا سے دلائل طلب

بدھ مئی 18:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے سابق چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن و دیگر کی درخواست ضمانت پر ملزمان کے وکلا سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی ہے۔بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن عبدالقادر میمن، سابق چیف سیکریٹری سندھ سمیت دیگر پیش ہوئے ۔دوران سماعت ملزم عبدالطیف کھوسو کے وکیل کی جانب سے دلائل دیے گئے۔

رفیق کلوڑ نے موقف اختیار کیا کہ ریفرنس میں 29 گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے گئے۔29 گواہوں میں سے ایک گواہ نے بھی میرے موکل کیخلاف گواہی نہیں دی۔میرے ا موکل عبدالطیف کھوسہ کا اس کیس میں کوئی کردار نہیں ہے ۔ملزم اعجاز حسین کے وکیل سلیم انصار ی نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل نے کوئی جعلی دستاویزات پر لیزنگ کے لئے اپروول نہیں دی۔

(جاری ہے)

1992 میں میرا موکل ملازمت پر بھی نہیں تھا۔

2016 کمیٹی کی میٹنگ میں بھی میرے موکل اعجاز حسین کا نام نہیں لیا گیا ۔ملزم غلام عبدالقادر میمن اور عبدالرسول میمن سمیت دیگر کے دلائل گزشتہ سماعت میں مکمل ہوچکے ہیں ۔ سابق سیکریٹری سندھ صدیق میمن کے وکیل کے دلائل بھی کیس میں مکمل ہوچکے ہیں۔نیب کے مطابق ملزمان پر کورنگی کی 6 ایکڑ زمین جعلی دستاویزات پر الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ملزمان کی وجہ سے قومی خزانے کو 55 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے ۔۔عدالت نے ملزمان کے وکلا سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی