جنوبی پنجاب صوبے کی بات ہوتے ہی (ن) لیگ کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے،علی محمد خان

جنوبی پنجاب سمیت جہاں بھی ضرورت ہو، انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں،حکومت کے کرنیوالے کام عدلیہ اور فوج کررہی ہے، میڈیا سے گفتگو

بدھ مئی 19:19

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پی ٹی آئی رہنماء اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی بات ہوتے ہی (ن) لیگ کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے، جنوبی پنجاب سمیت جہاں بھی ضرورت ہو وہاں انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں،حکومت کے کرنے والے کام عدلیہ اور فوج کررہی ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیو سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کہا کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہپی ٹی آئی پنجاب کو توڑنا چاہتی ہے۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ(ن ) جنوبی پنجاب صوبے کی مخالف ہے کیونکہ اس صوبے کے بن جانے سے ان کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے۔اگر جنوبی پیجاب کی عوام کے تمام مسائل حل ہو چکے ہوتے تو ہم کبھی بھی الگ صوبے کی حمایت نہ کرتے، لیکن اب اس صوبے کے اندر خود الگ صوبے کیلئے تحریک چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں۔ اصل مسئلہ صوبوں کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔ جنہوں نے اصغر خان کیس میں پیسے لئے اور دئیے ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ جو کام حکومت کے کرنے والے تھے وہ آج عدلیہ اور فوج کر رہی ہے۔