بیروزگاری کے خاتمے کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور سہولیات کی ضرورت ہے،

تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے سینیٹ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران ارکان کا اظہارخیال

بدھ مئی 19:23

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سینیٹ کے ارکان نے کہا ہے کہ بیروزگاری کے خاتمے کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں سے مہنگائی میں اضافہ اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بجائے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جانا چاہئے۔

بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے زیادہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق ہونا چاہئے تھا۔

(جاری ہے)

جب تک کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا، ملک میں بے چینی ختم نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی اور زرعی شعبوں کو مزید سہولیات فراہم کر کے معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اس وقت ملک کو جو حالات درپیش ہیں ان میں مثالی بجٹ پیش کرنا بہت مشکل تھا۔ بجٹ کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عام آدمی کو اس سے کتنا فائدہ ہوگا اور معیشت کتنی ترقی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

درآمدات بڑھنے اور برآمدات میں کمی سے تجارت میں بھی عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کو مستحکم بنائے بغیر معیشت کو ترقی نہیں دی جا سکتی۔ صنعتی شعبہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن ٹیکس بڑھنے کی وجہ سے اس میں ترقی کی رفتار ہمیں نظر نہیں آ رہی۔ ٹیکسوں کی شرح کم کرنے اور ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

بے روزگاری کے خاتمے کے لئے نجی شعبہ کو سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ کے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور ہمیں خدشہ ہے کہ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے مزید قرضے لینا پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لئے جب تک اقدامات نہیں ہوں گے معاشرے میں مساوی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ خواتین کو بھی ترقی کے دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ سینیٹر مرزا خان آفریدی نے کہا کہ فاٹا کی ترقی کے لئے مزید فنڈز دینے کی ضرورت ہے۔ فاٹا اس وقت مسائل کا شکار ہے۔ فاٹا کے عوام کو بھی ترقی کے عمل میں شریک کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔