5ء سے 2012ء کے دوران ای او بی آئی کے فنڈز آٹھ اقساط میں بیت المال، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر وزارتوں کو منتقل کئے گئے ہیں،رانا محمد افضل خان

بدھ مئی 19:23

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا ہے کہ 2005ء سے 2012ء کے دوران ای او بی آئی کے فنڈز آٹھ اقساط میں بیت المال، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر وزارتوں اور محکموں کو منتقل کئے گئے ہیں۔ 90 فیصد رقم ہم نے وصول کر کے واپس جمع کروا دی ہے باقی رقم بھی ادا ہو جائے گی۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کل ایک ارب 27 کروڑ 10 لاکھ روپے مختلف اداروں کو ای او بی آئی سے منتقل ہوئے تھے۔

ای او بی آئی کا فنڈ غریب مزدوروں کی پنشن کے لئے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 90 فیصد رقم وصول کر کے ای او بی آئی کے اکائونٹ میں واپس جمع کروا دی ہے۔ 2 کروڑ 19 لاکھ پچاس ہزار روپے باقی رہ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس پر بھی کام ہو رہا ہے اور ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ بھی ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1996ء میں ای او بی آئی کے قانون میں تبدیلی کی گئی تھی۔

ماضی میں ای او بی آئی کے 43 ارب روپے سے غیر قانونی طور پر جائیدادیں خریدی گئیں اس میں سے علیم خان کے خلاف 10 ارب روپے کا ایک کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ اس ادارے کو کنگال کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ غریب مزدوروں کی پنشن 600 روپے ہی ہے اور اسے بڑھایا نہیں جا پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت ای او بی آئی صوبوں کو منتقل کر دیا گیا تھا لیکن صوبے اسے لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کا موقف ہے کہ پہلے اربوں روپے کی لوٹی گئی رقم واپس حاصل کی جائے پھر اسے ہم لیں گے۔