جنوبی پنجاب صوبے کی بات سے ن لیگ کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے، علی محمد خان

جنوبی پنجاب سمیت جہاں بھی ضرورت ہو وہاں انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں، اصغر خان کیس میں پیسے لینے اور دینے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، رہنما پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

بدھ مئی 19:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ جب بھی جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی جاتی ہے ن لیگ ن کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے، جنوبی پنجاب سمیت جہاں بھی ضرورت ہو وہاں انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں، جنہوں نے اصغر خان کیس میں پیسے لیئے اور دئیے ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہپی ٹی آئی پنجاب کو توڑنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ(ن ) جنوبی پنجاب صوبے کی مخالف ہے کیونکہ اس صوبے کے بن جانے سے ان کا تخت لاہور لرزنے لگتا ہے۔اگر جنوبی پیجاب کی عوام کے تمام مسائل حل ہو چکے ہوتے تو ہم کبھی بھی الگ صوبے کی حمایت نہ کرتے، لیکن اب اس صوبے کے اندر خود الگ صوبے کیلئے تحریک چل رہی ہے۔

پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بنائے جائیں۔ اصل مسئلہ صوبوں کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔ جنہوں نے اصغر خان کیس میں پیسے لیئے اور دئیے ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ جو کام حکومت کے کرنے والے تھے وہ آج عدلیہ اور فوج کر رہی ہے۔