سیاسی جماعتوں نے تعلیم کا صرف نعرہ لگایااور کسی ایک نسل کو بھی تعلیم یافتہ نہیں ہونے دیا گیا،حنیف سلیمان

بدھ مئی 20:18

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان ایجوکیشن فارم کے چیئرمین حنیف سلیمان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے تعلیم کا صرف نعرہ لگایااور کسی ایک نسل کو بھی تعلیم یافتہ نہیں ہونے دیا گیا ۔ اگر قوم علم کے زیور سے آراستہ ہو جائے تو سیاسی جماعتوں کی دکانیں کیسے چمکیں گی ۔ سیاست دان کا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو ۔ اگر وہ اپنے ایجنڈے میں تعلیم کو فوقیت نہیں دیں گے تو ملک کے طلبا و اساتذہ اور باشعور شہری شہری انہیں اپنا ووٹ نہیں دیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار بدھ کو کراچی پریس کلب میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل زکیہ سلطانہ زکی اور پاکستان ایجوکیشن فارم کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اگر ہمارے مطالبات پر عمل نہ کیا تو ماہرین تعلیم اساتذہ اور طلبا اور باشعور شہری انہیں اپنا ووٹ نہیں دیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیکنڈری تک کی تعلیم سب کے لیے لازمی ہو گی اور تعلیم کی رغبت پید اکرنے کے لیے وظائف دیئے جائیں گے ۔

ہماری تہذیب ، مذہب اور اسلامی آئیڈیالوجی سے متصادم نصاب نہیں ہونا چاہئے ۔ تعلیم اردو زبان میں ہونی چاہئے اور دنیا بھر کی معلومات کو اپنی زبان میں تراجم کے ذریعہ عام کیا جائے اور انگریزی زبان کو ابتدا سے پڑھانے ، سکھانے اور بولنے کا اہتمام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ نصابی کتب سے غیر محسوس طریقے سے مسلمان اولیا ، علما ، مفکرین ، ماہرین تعلیم ، نامور مسلم خواتین ، وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والے فوجی اور غیر فوجی افراد اور فلاحی کام کرنے والے لوگوں کے نام نکال غیر ملکی ہیروز اور متنازعہ افراد کو جگ دی جا رہی ہے ۔

اسے فی الفور بند کر دیا جائے ۔ تعلیمی بجٹ میں 30 فیصد تک اضافہ کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن نہیں شروع کی جائے گی ۔ ہر علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے ترقیاتی فنڈز میں ترقیاتی بہبود کے نام سے اضافہ کیا جائے اور ہر ایم این اے اور ایم پی اے اپنے علاقے میں اسکولوں کی کمی پر توجہ دے ۔ مستحق طلبا کو وظائف اور سرکاری اسکول کی کارکردگی پر نظر رکھنا ایم این اے اور ایم پی اے کی ذمہ داری ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سوچ اگر تعلیم ، نصاب اور طلبا پر اثرانداز ہونے لگے گی تو اس کے اثرات نسلوں پر پڑتے ہیں ۔