نیب نے سابق چیئرمین واپڈا طارق حمید کیخلاف رینٹل پاور پراجیکٹ میں بدعنوانی کے الزام میں ریفرنس دائر کر دیا

نیب بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے ،جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں اشخاص کی بجائے کیسز پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں،عرفان نعیم منگی

بدھ مئی 20:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) نیب راولپنڈی سابق چیئرمین واپڈا طارق حمید و دیگر کیخلاف 150 میگاواٹ کے شرقپور رینٹل پاور پراجیکٹ میں بدعنوانی کے الزام میں احتساب عدالت اسلام آباد میں ریفرنس دائر کر دیا جبکہ ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے کہا ہے کہ نیب بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے ،جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں اشخاص کی بجائے کیسز پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

بدھ کو نیب کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سابق چیئرمین واپڈا طارق حمید، سابق ممبر پاور واپڈا انور خالد، سابق ممبر فنانس واپڈا امتیاز انجم، سابق ممبر واپڈا مشتاق چوہدری، سابق جنرل منیجر ڈبلیو پی پی او اور ایم/ایس جنرل الیکٹرک انرجی فضل احمد خان ایم/ایس جنرل الیکٹرک انرجی کو غیر قانونی طریقہ سے بغیر مسابقتی نیلامی کے رینٹل سروسز کنٹریکٹ دینے کے سلسلہ میں بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں جو پیپرا رولز، نیپرا ایکٹ اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ہدایات کے خلاف ہے جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

اب تک نیب راولپنڈی نے رینٹل پاور پراجیکٹس کیس میں 3 ارب 60 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کی ریکور کی ہے جو حکومتی خزانہ اور متعلقہ محکموں کو واپس کر دی ہے۔ نیب راولپنڈی نے مجموعی طور پر رینٹل پاور کے 12 بڑے سکینڈلز کی تحقیقات کیں اور کارکے شپ، پیران غائب ملتان،، ساہو والا سیالکوٹ، گدو سندھ،، نوڈیرو II سندھ،، سمندری روڈ، نوڈیرو I سندھ،، ایم ایس ریشماں پاور جنریشن رائے ونڈ،، ایم ایس ینگ جن پاور لمیٹڈ، بھکی شیخوپورہ، ایم ایس گلف رینٹل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ اور 150 میگاواٹ کے شرقپور آر پی پی سمیت تمام 12 کیسز میں ریفرنس دائر کئے۔

ان ریفرنسز میں مرکزی ملزمان سابق وزیر راجہ پرویز اشرف،، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین،، سابق سیکرٹری و چیئرمین پیپکو اسماعیل قریشی، سابق سیکرٹری و چیئرمین پیپکو راشد رفیع، سابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت چیمہ اور دیگر شامل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے کہا ہے کہ نیب بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے اور چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں اشخاص کی بجائے کیسز پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔