سعودی عرب بہت جلد سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جائے گا ، نواف بن سعید احمد المالکی

حالیہ سالوں میں مملکت خداداد میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں ، کلچر اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے خصوصی توجہ دی گئی ، پاک سعودی عرب تعلقات دوستی ، محبت اور اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہیں ، اسلامی ممالک کی تنظیم اجلاس کے دوران پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی گئی تھی ، سعودی سفیر سعوی عرب اور پاکستان کے مابین تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کیلئے نجی سطح پر سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، سعودی سرمایہ کار جلد پاکستان کا دورہ کرینگے، مسئلہ کشمیر پر بھی ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے ، آن لائن کو خصوصی انٹرویو

بدھ مئی 21:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ سالوں کے دوران بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ سعودی کلچر اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے خصوصی طور پر کام کیا جارہا ہے۔بہت جلد سعودی عرب سیاحوں کی توجہ کامرکز بن جائے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دوستی ، محبت اور اسلامی بھائی چار ے کی بنیاد پر تعلقات استوار ہیں ۔

ڈھاکہ میں ہونے والی اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی تھی۔معیشت کی مضبوطی کیلئے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارتی وفود کا تبادلہ وقت کی عین ضرورت ہے۔ بہت جلد سعودی سرمایہ کاروںکا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

(جاری ہے)

پاکستان سے سالانہ 1.5 ملین سے زائد پاکستانی عمرہ کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں اس کے علاوہ دولاکھ سے زائد افراد حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں مختلف شعبوں میںخدما ت سرانجام دے رہے ہیں۔ ائیرپورٹ اور دیگر سیکیورٹی مقامات پر لمبی قطاروں میں انتظار کی زحمت سے بچنے کیلئے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بائیو میٹرک تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔اس معاملے میں سعودی عرب نے بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔

آئندہ انتخابات میں منتخب سیاسی حکومت کے ساتھ سعودی عرب تعاون جاری رکھے گا۔ ان خیالات کااظہار سعودی عرب کے سفیر نے آن لائن کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادر اسلامی ممالک کا مضبوط رشتہ قائم ہے ، سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور تعاون آئند ہ بھی جاری رہے گا۔

پاکستان کے مابین معاشی، ثقافتی ، عسکری، تعلیمی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔۔سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان مسلم آباد ی کا اہم ملک ہے اورپہلی مسلم نیوکلیئر پاور بھی ہے۔دونوں ممالک کے مابین دوستانہ دوطرفہ خوشگوار تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ سعوی عرب اور پاکستان کے مابین تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کیلئے نجی سطح پر سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، اس سلسلے میں سعودی سرمایہ کار جلد پاکستان کا دورہ کرینگے۔

سال 2016ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تجارتی 4.5ارب سالانہ ہے۔ انہوںنے بتایا کہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران اسلام آباد، لاہور،، کراچی اور فیصل آباد کے چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے ملاقاتیں کی ہیں۔۔سعودی بزنس مین پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، حال ہی میں اعلی سعودی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔

سعودی وفد نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر اعلی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ وفد کے ارکان نے پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک سوال کے جواب میں نواف بن سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب آئندہ الیکشن میں منتخب حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

انہوںنے بتایا کہ اگرچہ سعودی عرب میں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ، مگر جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سعودی عرب میں جدید طرز کی سیر گاہیں تعمیر کی جارہی ہیں، جو بہت جلد بین الاقوامی سیاحوں کیلئے کھول دی جائیںگی۔۔سعودی عرب اس سلسلے میں بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے، امید ہے کہ بہت جلد بین الاقوامی سیاح سعودی عرب کا رخ کرینگے۔ اس سلسلے میں سیاحتی ویز ا کیلئے پالیسی نرم کی جارہی ہے ، جس کا اطلاق بہت جلد دیگر ممالک سمیت پاکستان پر بھی ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے بتایا کہ جنوبی ایشیاء میں امن کیلئے افغانستان میں قیام امن اشد ضروری ہے۔ پاکستان میں حالیہ سالوں کے دوران امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔۔سعودی عرب نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے، اسلامی ممالک کی تنظیم کے حالیہ اجلاس کے دوران سعود ی عرب نے کشمیر میںبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ سعودی عرب کا سفر کرنے والے پاکستانی افراد کیلئے بائیومیٹرک تصدیق کا نظام انکی سہولت کے پیش نظر شروع کیا گیا ہے، سعودی ائیرپورٹ اور دیگر سیکیورٹی چیکنگ کی زحمت سے بچنے کیلئے پاکستان سے بائیومیٹرک کی تصدیق سے لمبی قطاروں میںکھڑے ہونے سے بچت ہوگی۔انہوںنے کہا کہ سعودی سفارت خانہ اسلام آباد سے 5000-7000 افراد روزانہ کی بنیاد پر ویزے جاری کررہا ہے ۔

’’ اعتماد ‘‘کے دفاتر ملک بھر میں بائیومیٹرک کی تصدیق کا کام تسلی بخش سرانجام دے رہے ہیں۔۔پاکستان سے بائیومیٹرک تصدیق کا نظام سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے سخت سیکیورٹی سے چیکنگ کے طریقہ کار میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات مثالی حیثیت کے حامل ہیں۔۔پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ مذہبی رشتہ بھی موجود ہے۔ سیاحتی ویزہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جلد سیاحتی ویز ہ پالیسی کا اعلان کرے گا۔